اسلام آباد(آن لائن)نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،بلوچستان کے تمام آبی منصوبوں میں کلائمیٹ ریزیلئنس اور کلائمیٹ فنانس کو ملحوظ خاطر رکھا جائے،خضدار -کراچی دو رویہ شاہراہ کی تعمیر کے لئے معاملات کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے ۔تفصیل کے مطابق نگران وزیر اعظم کی زیر صدارت بلوچستان کے امور پر اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کو چیف سیکرٹری بلوچستان کی جانب سے صوبے کے مختلف منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر نگران وزیر اعظم کا کہناتھا کہ کہ خضدار -کراچی دو رویہ شاہراہ کی تعمیر کے لئے معاملات کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خضدار کراچی دو رویہ شاہراہ کی تعمیر سے ملک کے مختلف علاقوں کو متبادل راہداری ملے گی اور رابطے آسان ہوں گے۔ خضدار کراچی دو رویہ شاہراہ کی تعمیر سے ملک کے مختلف علاقوں کو متبادل راہداری ملے گی اور رابطے آسان ہوں گے۔ وزیراعظم نے بلوچستان کی سرکاری جامعات کے مالی مسائل فی الفور حل کرنے کے ساتھ ساتھ کچھی کینال منصوبے کے معاملات کے حوالے سے بین الصوبائی کمیٹی بنانے کی ہدایت کی۔ کمیٹی میں نگران وفاقی وزیر منصوبہ بندی،پنجاب اور بلوچستان کے نگران وزراء اعلیٰ شامل ہوں گے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ پہاڑی نالوں سے آنے والے پانی کو استعمال میں لانے کے لئے چیک ڈیمز بنا یا جائے اور پاکستان کی سمندری حدود میں مچھلیوں کے غیر قانونی شکار کی روک تھام کے لئے ٹرالرز پر ٹریکر سسٹم لگا یا جائے۔وزیراعظم نے نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز پولیس کو نادرا کے اشتراک سے گاڑیوں کی رجسٹریشن اور فٹنس کے حوالے سے مربوط نظام لانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بلوچستان حکومت صوبے میں صاف اور شفاف انتخابات کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تمام تر ہدایات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔اجلاس کو بلوچستان کے لئے ٹیکس اور نان ٹیکس محصولات بڑھانے کے حوالے سے حکمت عملی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ٹیکس ریونیو کلیکشن سسٹم کی ڈیجیٹائزیشن پر کا کام کیا جا رہا ہے۔ کان کنی کو صنعت کا درجہ دینے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع کوئٹہ میں کان کنوں کے لئے ریسکیو 1122 کا خصوصی مرکز قائم کیا گیا ہے ۔بلوچستان میں موٹر ویز، قومی و صوبائی شاہراہوں پر سفر محفوظ بنانے کے لئے گاڑیوں کی ٹیسٹنگ کے لئے مربوط نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔بلوچستان حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر پاکستانی سمندری حدود میں مچھلی کے غیر قانونی شکار کے خلاف اقدامات کر رہی ہے۔ انتظامی شفافیتبڑھانے کے لئے بلوچستان کے تمام سرکاری ملازمین کے ڈیٹا کی نادرا سے تصدیق کی جا رہی ہے۔۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان علی مردان ڈومکی، وزیر تعلیم بلوچستان ڈاکٹر قادر بلوچ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر نے نگران حکومت بلوچستان کی نمائندگی کی۔ نگران وفاقی حکومت کی جانب سے نگران وفاقی وزیر منصوبہ بندی سمیع سعید، نگران وفاقی وزیر قانون و آبی وسائل احمد عرفان اسلم اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔
Load/Hide Comments



