پاکستان بھارت سمیت تمام ہمسایوں کے ساتھ پرامن اور سود مند تعلقات کا خواہاں ہے،انوارالحق کاکڑ

نیویارک (آن لائن) نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت سمیت تمام ہمسایوں کے ساتھ پرامن اور سود مند تعلقات کا خواہاں ہے،جنوبی ایشیا میں امن کی کنجی کشمیر ہے،اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنی قراردادوں پر عمل کرنا چاہئے،عالمی طاقتیں نئی دہلی کو قائل کریں کہ پاکستان کی اسٹریٹجک اور روایتی ہتھیاروں کے استعمال سے گریز کی پیش کش قبول کرے،افغانستان میں امن پاکستان کے لیے اسٹریٹجک حوالے سے اہم ہے، پاکستان کالعدم ٹی ٹی پی داعش اور افغانستان سے سرگرام دیگر گروپس کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور خواہش رکھتا ہے کہ کابل حکومت اس مسئلے میں اپنا اہم کردار ادا کرے، افغانستان میں انسانی امداد کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے، بھارت خطے میں انتہا پسندی کو فروغ دے رہا ہے،دنیا کو دہشتگردی بشمول بھارت جیسی ریاستی دہشتگردی کو ختم کرنا ہوگا، ہندوتوا جیسے نظریات نے ہی اسلامو فوبیا کو دنیا میں بڑھایاہے،اسلامو فوبیا کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قرارداد پر سختی سے عمل در آمد کی ضرورت ہے، آزاد فلسطین کا قیام ہی مشرق وسطیٰ میں امن کی ضمانت ہے، فلسطین میں بھی دیرپا امن ناگزیر ہے، یوکرین سمیت پچاس ممالک اس وقت جنگ سے متاثر ہیں، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا، معاشی طور پر مستحکم ہونے کیلئے دنیا کو مل کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نگران وزیر اعظم نے کہا پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے کامیاب اجلاس منعقد کرانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ موسمیاتی تبدیلی اور کورونا کی وجہ سے معاشی بحران پیدا ہوا، موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان سب سے زیادہ متاثرہوا، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ معاشی طور پر مستحکم ہونے کیلئے دنیا کو مل کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کو خوراک، تیل اور معاشی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ بحرانوں پر قابو پانے کیلئے فوری طور پر امداد کی ضرورت ہے۔نگران وزیر اعظم نے کہا حکومت معیشت کو ٹھیک کرنے میں سنجیدہ ہے۔سیلاب نے پاکستان کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر کے رکھ دیا۔ نگران وزیر اعظم نے کہا ہم جدید تاریخ کے نازک موڑ پر مل رہے ہیں، یوکرین میں تنازعہ جاری ہے اور دنیا کے دیگر 50 مقامات پر بھی تنازعات ہیں، عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں نئے اور پرانے عسکری بلاکس اور جیو پالیٹکس بڑھ رہی جب معیشت کو اولیت ملنی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا سرد جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی، اس سے کہیں زیادہ خطرناک چینلجز کا سامنا ہے، جس کے لیے عالمی تعاون اور مشترکہ کارروائیوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت تنزلی کا شکار ہے، بدترین انٹرسٹ ریٹ کساد بازاری کا باعث ہوسکتی ہے۔ انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ غربت اور بھوک میں اضافہ ہوگیا ہے، 3 دہائیوں کے ترقیاتی کے فائدے تنزلی کا شکار ہوگئے ہیں، ڈیولپمنٹ کے لیے ہمیں پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول یقینی بنانا ہوگا۔معاشی طور پر مستحکم ہونے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے، کسی بھی ملک کیلیے معاشی استحکام ضروری ہے، پاکستان میں معاشی استحکام کیلیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ سی پیک کی وجہ سے پاکستان مضبوط ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کوپ 28 میں کیے گئے وعدوں پورے کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے بدترین متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے، گزشتہ برس آنے والے سیلاب سے ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب آیا اور 1700 افراد جاں بحق ہوئے اور 80 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوئے۔نگران وزیراعظم نے کہا کہ ہم پاکستان کے بحالی اور تعمیر کے پروگرام کے لیے 10.5 ارب ڈالر سے زائد کے وعدوں کے حوالے سے پرامید ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ ہمارے ترقیاتی شراکت دار ہماری بحالی کے پروگرام کے لیے فنڈز کی فراہمی کو ترجیح دیں گے، جس سے 30 ارب ڈالر نقصان ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی وسطی ایشیا کے ساتھ جڑنے کے منصوبوں پر فوری عمل درآمد کا پرعزم ہے، ترقی کا انحصار امن پر ہے، پاکستان دنیا میں معاشی لحاظ سے غریب ریجنز میں سے ایک میں واقع ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ماننا ہے ریجن اتحاد سے ترقی کرتا ہے، اسی لیے پاکستان اپنے تمام ہمسائیوں بشمول بھارت سے پرامن اور سود مند تعلقات کا خواہاں ہے۔