لاہور (آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے صحافی عمران ریاض کی بازیابی کے لیے آئی جی پنجاب کو آخری موقع دیتے قرار دیا کہ اگر عمران ریاض کو اس روز بازیاب کرا کے پیش نہیں کیاجاتا تو عدالت خود کوئی فیصلہ کرے گی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے عمران ریاض کے والد کی درخواست پر سماعت کی۔آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور پیش ہوے اور عمران ریاض کی بازیابی کے لیے ایک اور مہلت مانگی۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوے قرار دیا کہ پانچ ماہ سے آپ کی باتیں صبر سے سن رہا ہوں۔اب میرے صبر کا پیمانہ ختم ہو رہا ہے۔چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل میاں ولی اشفاق سے استفسار کیا کہ اگر آپ رضامند ہیں تو میں مہلت دے دیتا ہوں۔میاں علی اشفاق نے آئی جی کو مہلت دینے پر رضامندی ظاہر کر دی درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ بیٹے عمران ریاض کو اغوا کر لیا گیا اسکو کسی عدالت کے روبرو پیش نہیں کیا گیا عدالت بیٹے کو بازیاب کرنے کا حکم دے دوران سماعت آئی جی پنجاب سمیت دیگر افسران عدالت پیش ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب سے استفسار کرتے ہوئے پوچھا عمران ریاض کی بازیابی کے لیے کیا پیش رفت ہوئی ہے جس پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم نے عدالتی احکامات پر عمران ریاض کے والد سے ملاقات کی تمام پیش رفت سے متعلق انکے والد اور وکلاء کو بتا دیا گیا ہے، معاملے پر ٹھیک ڈائریکشن پر جارہے ہیں۔ دوران سماعت عمران ریاض کے وکیل نے کہا کہ انکی تفتیش درست سمت میں جارہی ہے کیس میں کسی بھی وقت پیش رفت ہوسکتی ہے۔عدالت نے کاروائی کرتے ہوئے سماعت 26 ستمبر تک ملتوی کردی۔
Load/Hide Comments



