لندن(آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کا پنجاب بھر کے پارٹی عہدیداروں کے گرینڈ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بعض نقصانات زندگی میں پورے ہوجاتے ہیں لیکن بعض کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا۔پاکستان کی تاریخ میں اتنی تلخیاں نہیں آنی چاہیئیں تھیں، جتنی لائی گئیں۔معاملات تلخی کی اس نہج پر نہیں جانے چاہئیں تھے، ماضی میں ایسا نہیں ہوا تھا۔نواز شریف نے حمزہ شہباز کے جذباتی خطاب پر شرکاء کو مرزا غالب کا شعر سنا دیا۔
غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک میں
بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفان کیے ہوئے
انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز شریف، حمزہ شہباز شریف سمیت پاکستان مسلم لیگ(ن) کے راہنماؤں اور کارکنوں نے بغیر کسی جرم کے جیلیں اور سختیاں بھگتیں۔احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، حنیف عباسی سمیت ہمارے پارٹی راہنماؤں اور کارکنوں نے کسی جرم کے بغیر ہی ظلم برداشت کیے۔یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے آج پاکستان کا یہ حشر کر دیا ہے۔آج غریب روٹی کو ترس رہا ہے، ملک کو اس حال تک کس نے پہنچایا ہے؟ آج عوام روٹی کے لئے پریشان ہے، 2017 میں تو یہ حالات نہیں تھے۔2017 میں آٹے، گھی اور 50 روپے چینی مل رہی تھی۔2017 میں جسے 1000 کا بل آتا تھا، اسے آج 30 ہزار بجلی کا بل آ رہا ہے۔عوام کہاں سے یہ بجلی کے بل ادا کریں؟ عوام روٹی کھائیں، بجلی کا بل ادا کریں یا دوائی خریدیں؟ ملک اور عوام کو ان حالات سے دوچار کرنے والے کون ہیں؟ قوم کو اس حالت تک پہنچانے والے کردار اور چہرے ہمارے سامنے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارا تو ایک منٹ میں احتساب ہوتا پے، ملک وقوم کو اس حال کو پہنچانے والوں کا احتساب بھی ہوگا؟ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہمارے دور میں ملک ایٹمی قوت بنا۔ملک کو جوہری قوت بنانے والے شخص کو جلا وطن کیا جاتا ہے، جیلوں میں ڈالا جاتا ہے اور دہشت گردی کی عدالت سے 27 سال کی سزا سنائی جاتی ہے۔کیا نواز شریف کا قصور یہ تھا کہ اس نے پاکستان کو ایٹمی ملک بنایا .
Load/Hide Comments



