اسلام آباد(آن لائن)سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ کوئی ملک سٹے بازوں کو معیشت یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔آرمی چیف کے اقدامات سے ڈالر کی قیمت پر فرق پڑنا چاہئے۔لوگوں نے چند ارب روپے بنانے کیلئے ملک کو نقصان پہنچایا۔میری ایک تاریخ ہے، کچھ عالمی دارے اس سے خوفزدہ ہیں۔ان اداروں کے نام لینا پاکستان کے مفاد میں نہیں۔سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اداروں کو ڈر تھا کہ میں ڈالر200 روپے لے جا سکتا ہوں۔اس وقت پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کا سوال تھا۔پی ٹی آئی کے دور میں ہمارے قرضے25ارب ڈالر بڑھے۔اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہمارا ہدف تھا کہ بیرونی ادائیگیوں میں تاخیر نہیں کرنی۔میں روپے کی قدر سنبھال سکتا تھا۔پیغام دیا گیا وزیر خزانہ کو کہیں مارکیٹ چلنے دیں۔انہوں نے کہا ہے کہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر ہوتی۔آئی ایم ایف معاہدے میں تاخیر کی وجہ جیو پولیٹیکل مسئلے تھے۔مختلف عالمی اداروں کی خواہش تھی پاکستان ڈیفالٹ ہو۔انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2017میں ہم نے آئی ایم ایف کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ڈالر کی قیمت250روپے پر آنی چاہئے۔ایکسپورٹس کے ساتھ امپورٹس کو بھی مینیج کرنا ہو گا۔
Load/Hide Comments



