سکھر (آن لائن)پی پی کے چیئرمین بلاول بٹو زرداری نے کہا کہ قائد عوام کا نظریہ پورا کرنے جا رہے ہیں۔اپنی ٹیم کو جو بھی کام دیتا ہوں وہ کر کے دکھاتے ہیں۔عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے جا رہے ہیں۔آج بھی قائد عوام کو انصاف کیلئے کیس عدالت میں ہے۔غریب لوگوں کے گھر تڑوا دیئے گئے۔عوام کے سر سے چھت چھیننے کی ضدپکڑ رکھی ہے۔شہید بینظیر بھٹو کی جماعت عوام کو لاوارث نہیں چھوڑ سکتی۔ججز کو پلاٹ بانٹ سکتے ہیں تو غریبوں کو بھی بانٹ سکتے ہیں۔غریب عوام کو مالکانہ حقوق دیئے جا رہے ہیں۔7ہزار200متاثرہ خاندان اپنی زمین کے مالک بنیں گے۔کچھ کچی آبادیوں کو بھی ریگولر ائز کرنے کا ٹاسک دے دیا۔کچی آبادیوں کو بھی مالکانہ حقوق دیں گے۔عوام کو مشکل سے نکال سکتے ہیں۔ہمیں عوام کو سکون اور سیکیورٹی دلوانا ہے۔غریبوں اور عوام کی خدمت پیپلز کام ہے۔دوسری جماعتوں کو معلوم ہی نہیں خدمت کیسے کی جاتی ہے۔پیپلز پارٹی روٹی، کپڑا، مکان کا نعرہ حقیقت میں بدلتی ہے۔بے نظیر انکم سپورٹ پرروگرام کے ذریعے غریبوں کی مدد کی جا رہی ہے۔دل کے علاج کیلئے سکھر میں اسپتال قائم ہے۔اقلیتی برادری کو گھروں کے مالکانہ حقوق دیئے جا رہے ہیں۔بشیر آباد میں بھی متاثرہ خاندانوں کو گھروں کے مالکانہ حقوق دیئے جائیں گے۔غریبوں کے لئے پیپلز پارٹی دن رات کام کرتی ہے۔ہمیں کہا جاتا ہے کہ پیپلز پاپرٹی کچھ نہیں کرتی،ہاں ہم اشرافیہ اور امیروں کیلئے کچھ نہیں کرتے۔دل کے علاج کیلئے سکھر میں اسپتال قائم ہے۔تمام7200متاثرہ خاندان اپنی زمین کے مالک بنیں گے۔سکھر میں گردے کے علاج کا میڈیککل کمپلیکس کھلوا دیا ہے۔پورے پنجاب میں گردے اور جگر کے علاج کیلئے ایک ہی ہسپتال ہے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غریبوں کی مدد کی جا ہی ہے۔بی آئی ایس پی کے ذریعے غریبوں کی مدد کی جا رہی ہے۔پیپلز پارٹی کو نہ صرف سندھ بلکہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں جتوانا ہے۔عوام تاریخی مہنگائی، تاریخی غریب کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ہمارا ساتھ دیں تاکہ ہم غرب دوست، کسان دوست حکومت بنا سکیں۔سکھر میں کینسر کے مفت علاج کا ہسپتال بنا رہے ہیں۔آپ نے قائد عوام کا ساتھ دیا اور ملک کی تقدیر بدل دی۔قائد عوام جیسے لیڈر کو بھی انصاف کے بجائے پھانسی سنائی گئی۔آپ نے قائد عوام کا ساتھ دیا اور ملک کی تقدیر بدل دی۔میئر سکھر کو ٹاسک دیا ہے کہ کچی آبادیوں اقلیتی برادری کو250 پلاٹس مالکانہ۔کل ایسا نہ ہو کہ ان کے گھر گرائے جائیں، اس لئے مالکانہ حقوق دیئے۔70سال وہی شکلیں دیکھی ہیں، اب کسی اور کو موقع دینا چاہئے۔پاکستان کے لئے نوجوان قیادت کی ضرورت ہے۔کہا جاتا ہے ہم کچھ نہیں کرتے، ہا ہم اشرافیہ، امرا کیلئے کچھ نہیں کرتے۔آپ کو کبھی مایوس نہیں کروں گا۔الیکشن آج نہیں تو کل ہونگے،90دن نہیں۔تو100دن میں ہونگے، سو نہیں تو120 دن میں ہونگے۔کوئی چاہئے نہ چاہئے الیکشن تو ہوں گے،90نہیں تو120دنوں میں ہوں گے۔ کوئی چاہئے نہ چاہئے الیکشن تو ہوں گے۔الیکشن آج نہیں تو کل ہوں گے۔الیکشن آج نہیں تو کل ہوں گے،کوئی مائی کا لال روک نہیں سکتا.
Load/Hide Comments



