الیکشن جنوری فروری سے پہلی بھی ہوسکتے ہیں، سپریم کورٹ 90 دن میں انتخابات کا فیصلہ دے گی تو اس پر بھی عمل کیا جائے گا،نگران وزیراعظم

اسلام آباد(آن لائن)نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ الیکشن جنوری فروری سے پہلی بھی ہوسکتے ہیں، اگر سپریم کورٹ آف پاکستان 90 دن میں انتخابات کا فیصلہ دے گی تو اس پر بھی عمل کیا جائے گا۔نجی ٹی وی کو انٹرویو میں نگراں وزیراعظم نے کہا کہ نیشنل انوسٹمنٹ فیسیلیٹشن کونسل (این آئی ایف سی) کے ذریعے ہونے والے معاشی اقدامات کے نتائج دسمبر کے آخر تک آنا شروع ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم 9 مئی کے واقعات میں کسی پاکستانی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ اْن لوگوں کے خلاف ہیں جو فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث تھے۔پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے سوال پر نگران وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو مذاکرات کا خود سوچنا ہو گا، وہ ہم سے بڑا ملک ہے۔ یہ اس کی ضرورت ہے۔نگراں حکومت سے غیرمعمولی توقعات کے سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جو بھی وقت ہمیں دیا گیا ہے ہم ایمانداری سے توقعات پر پورا اترنے اور اہداف پورے کرنے کی اپنی تئیں پوری کوشش کریں گے۔نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے اپنے پہلے ہی ہفتے میں اپنی ترجیحات کو درست کرلیا، ہمیں اپنے تجارتی خسارے کا اندازہ ہے اور اس کا حل بھی پتا ہے کہ ہم نے کیا کرنا ہے، مثال کے طور پر شمالی امریکہ، یورپی یونین اور جی سی سی کے ساتھ ہمارے تجارتی تعلقات ہیں، ہم چاہ رہے ہیں کہ اس کو خطوں میں تقسیم کردیں، ہم سینٹرل ایشیا، کاکسز، ترکیہ اور ایران کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات بڑھائیں۔انہوں نے کہا کہ جب آپ سستی توانائی نہیں فراہم کریں گے تو آپ کو مینوفیکچرنگ سیکٹر کیسے درست ہوگا۔نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے آئی پی پیز کے ساتھ جو معاہدات کیے ہوئے ہیں ان میں مداخلت، گردشی قرضوں کو کنٹرول میں لانے اور ریوینیو جنریٹ کرنے کیلئے ایف بی آر کی اصلاحات یا جسے آپ ڈجیٹلائزیشن آف اکنامی کہتے ہیں، اس کے توسط سے آئی ٹی منسٹری کی طرف سے ہمارے پاس پلان آگیا ہے۔دورِ اقتدار کے اس ایک مہینے میں سب سے بڑے چیلنج کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’ایک لفظ میں مجھے بتانا ہو تو معیشت، معیشت اور معیشت‘۔انہوں نے کہا کہ ہمیں لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہوا تو ہم نے کہا کہ فوراً بجلی پیدا کرنی چاہیے، یہ جانے بغیر کہ اکھپت کہاں ہوگی، انڈسٹریل سیکٹر میں کیسے ہوگی ڈومیسٹک سیکٹر میں کیسے ہوگی، اس کا اکنامک ماڈل قابل عامل ہے یا نہیں، میں (آئی پی پیز سے کیے) معاہدوں کی طرف اشارہ کر رہا ہوں۔آئی پی پیز سے معاہدوں پر نظر ثانی اور ان میں تبدیلی کے سوال پر نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ’جب آپ بطور ریاست معاہدات کرتے ہیں تو وہ بعض اوقات فائدہ مند ہوتے ہیں اور بعض اوقات نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں، لیکن آپ کو ان کی پاسداری کرنی ہوتی ہے، بین الاقوامی طور پر ایسا نہیں ہوسکتا کہ کل کو آپ کہہ دیں کہ یہ معاہدہ چونکہ ہمارے مفاد میں نہیں ہے تو میں نہیں کرتا۔ یہ ممکن نہیں ہے‘۔ مقامی آئی پی پی پیز کے ساتھ جو معاہدات ہوچکے ہیں، ان میں بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہاں کہاں مداخلت کرکے کیپیسیٹی چارج جو ہمیں دینا پڑ رہا ہے اس کی ارینجمنٹ درست کی جاسکے۔ اس پر کام ہو رہا ہے۔نگراں حکومت کے اختیارات سے تجاوز کرنے کے سوال پر وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ ایک طرف مشکل فیصلوں کیلئے دباؤ ہے تو دوسری طرف دباؤ ہے کہ آپ الیکشن کرائیں اور جائیں، ہمیں ایک بیلنس قائم کرنا ہے، ’اس میں کوئی شک نہیں ہے، ہم یہاں نہ لانگ ٹرم (طویل مدت) کیلئے آئے ہیں نہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ ہے، کسی کے ذہن میں اس طرح کا خیال ہے تو وہ غلط فہمی دور ہوجائے تو بہتر ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ قوانین کے زریعے جو ہمیں اختیارات دیے گئے ہیں، خصوصی طور پر معاشی میدان میں ’وہ دیے اس لیے گئے ہیں کہ وہ مشکل فیصلے جو مستقبل میں بھی کوئی سیاسی جماعت اگر نہ لے سکے تو جو خلاء ہمیں بائی چانس مل گیا ہے اسے پْر کریں‘۔ اس کا فائدہ عمومی طور پر عوام اور خصوصی طور پر اگلی حکومت بنانے والی سیاسی جماعت کو ہوگا کہ جو فیصلے کرلیے گئے انہیں آگے بڑھا سکیں۔