اسلام آباد(آن لائن)سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس کا کریڈٹ آرمی چیف کو دے دیا۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف اور ان کی ٹیم کی بروقت مداخلت نے پاکستان کو کرنسی مارکیٹ میں بلیک مارکیٹرز کی طرف سے پیدا ہونے والے انتشار سے بچا لیا ہے۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ حالات میں بہتری آئی ہے اور امید ہے کہ سٹیٹ بینک اور فن اس موقع کو مستقل طور پر انتظامی ہتھیاروں پر انحصار کرنے کے بجائے نظام کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کریں گے۔واضح رہے کہ بلیک مارکیٹ کے خلاف کریک ڈاون شروع ہوتے ہی ڈالر کی قیمت نیچے آگئی۔ماہرین کے مطابق ایکسچینج کمپنیوں میں سادہ لباس اہلکاروں کی تعیناتی کے بعد بلیک مارکیٹ کا خاتمہ ہو گیا۔ بلیک مارکیٹ میں کمی کے باعث اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمتوں میں زبردست کمی ہوئی۔ گذشتہ روز ڈالر کی غیر قانونی خرید و فروخت روکنے کے لیے وفاقی حکومت نے ایکسچینج کمپنیز کے باہر سادہ لباس اہلکار تعینات کیے تھے۔جب کہ ڈالر کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا ہے۔پنجاب حکومت نے بڑے پیمانے پر پالیسی مرتب کر لی۔ ڈالر کی اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث جرائم پیشہ افراد کیخلاف کریک ڈاون کا آغاز کر دیا گیا،اسمگلرز،سہولت کاروں،سرکاری افسران اور سرپرستوں کی نشاندہی کر لی گئی۔ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اجناس اور کرنسی کے کاروبار میں اہم پالیسی اصلاحات بھی جاری ہیں۔ اس سلسلے میں زمینی،سمندری راستے اور ہوائی اڈوں پر نگرانی کے نظام کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے،جبکہ سامان اور کرنسی کی غیر قانونی نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہو گی۔
Load/Hide Comments



