آسیان ممالک کے تاجر پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں: بلیغ الرحمان

لاہور (آن لائن) گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں آسیان کے موضوع پر ٹریڈ اینڈ ٹورازم کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس میں آسیان ممالک کے سفیروں، صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کاشف انور اور چیمبر کے عہدیداران اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے کہا کہ پاکستانی تاجروں کے لیے آسیان ممالک میں برآمدات کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اسی طرح آسیان ممالک کے تاجر پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آسیان کے رکن ممالک ان سہولیات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کانفرنس میں موجود آسیان ممالک کے معزز سفیروں کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہیں اور امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان تجارتی اور سیاحتی تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آسیان ممالک کے لیے سیاحت، زراعت اور حلال مصنوعات کی برآمد سمیت مختلف شعبوں میں کاروبار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے قدرتی مناظر، ثقافتی ورثے اور مہمان نوازی کے حوالے سے دنیا میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے قدرتی مناظر میں تمام خصوصیات موجود ہیں، سرمایہ کاری اور مناسب فروغ پاکستان کو سیاحت کا مرکز بنا سکتے ہیں۔ گورنر پنجاب نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے سیاحت کے شعبے کی ترقی کے لیے آسیان ممالک کی مہارت کو بروئے کار لایا جائے اور ان کے تعاون اور رہنمائی سے بنیادی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور غیر ملکی سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے بہتر پالیسیاں مرتب کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آسیان خطے میں تجارتی اور اقتصادی تعاون کی نئی راہیں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج یہاں ہماری موجودگی اس اہمیت کی عکاسی کرتی ہے جو ہم مضبوط تعلقات کو فروغ دینے اور ہم آہنگی پیدا کرنے کو دیتے ہیں جو باہمی ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ انڈونیشیا کے سفیر، ملائیشیا کے ہائی کمشنر اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ کانفرنس آسیان کے رکن ممالک کے درمیان سیاحت اور مختلف شعبوں میں اقتصادی تعاون کی نئی راہیں کھولے گی.