توشہ خانہ کے تحائف کو ڈکلیئر نہ کرنا جرم ہے،عطاء تارڑ

اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ چیئرمین نے توشہ خانے کے تحائف کو بلیک مارکیٹ میں بیچا، چوری کی ہے تو حساب تو دینا پڑے گا،ملکی تاریخ کا ایسا رہنما بتا دیں جس نے توشہ خانہ تحائف بلیک مارکیٹ میں بیچے ہوں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کبھی ایک، کبھی دوسرا بہانہ کرتے ہیں، کبھی جج پر عدم اعتماد، کبھی میری حاضری پر اختلاف، چیئرمین پی ٹی آئی چاہتے ہیں کہ ان کی مرضی کا فیصلہ ہو، توشہ خانہ کے تحائف نہ صرف لئے گئے بلکہ بیچے بھی گئے، چوری کی ہے تو حساب تو دینا پڑے گا،ملکی تاریخ کا ایسا رہنما بتا دیں جس نے توشہ خانہ تحائف بلیک مارکیٹ میں بیچے ہوں۔انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ کے تحائف بلیک مارکیٹ میں بیچے اور رقم بھی جمع نہیں کروائی، توشہ خانہ کیس دن دیہاڑے چیئرمین پی ٹی آئی کا ڈاکہ ہے، کیس گزشتہ گیارہ ماہ سے چل رہا، چیئرمین پی ٹی آئی ایک بار پیش ہوئے، توشہ خانہ کے تحائف قوم کا پیسہ تھا، اربوں روپے کے تحائف تھے، چیئرمین پی ٹی آئی نے توشہ خانہ سے تحفہ لینا ڈیکلیئر بھی نہیں کیا، توشہ خانہ کے تحائف کو ڈکلیئر نہ کرنا جرم ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے آج تاریخ لی، تاریخ پر تاریخ لی جا رہی ہے۔ کیس میں اب شہادتیں ریکارڈ ہو رہی ہیں، جرح ہو رہی ہے، آج تاریخ لینے کا کیاجواز تھا؟ وہ ہمیں کہتے تھے کہ رسیدیں دو، خود گھر پر بیٹھ کر جعلی رسیدیں بنائی ہیں، کیا کل آپ کے وکیل کو زیب دیتا تھا کہ شہادتیں ریکارڈ ہو رہی ہوں اور وہ گھر چلے جائیں، انسانوں کی طرح عدالتوں میں پیش ہو جاؤ، جواب دو۔ و زیرِ اعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ سائفر کا جھوٹا بیانیہ اپنی موت مر چکا ہے، ایک طرف کرپشن ہے اور دوسری طرف جھوٹ ہے، آپ نے چوری اور سازش کی ہے، توشہ خانہ کیس میں آپ زیادہ دیر راہ فرار اختیار نہیں کر سکیں گے، عدالت پر چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء نے پریشر ڈالا ہے۔عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ نواز شریف کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کیس سنا جائے، نواز شریف تو روز عدالت پیش ہوتے تھے اور بیگناہ ثابت ہوئے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ خانہ کعبہ والی گھڑی تک بلیک مارکیٹ میں بیچ دی، توشہ خانہ کیس چوری کا کیس ہے، چوری ثابت ہے، اعظم خان محب الوطن شخص ہیں، سائفرکے کیس میں بھی چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت میں پیش ہونا پڑیگا، جواب دینا پڑے گا۔