پاکستان نے بجٹ کی تمام تفصیلات آئی ایم ایف کو فراہم کردیں،کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر اختلافات

اسلام آبا د(آن لائن)آئی ایم ایف اور پاکستان اختلافات دور کرنے کی آخری کوشش، پاکستان نے بالا آخر نئے بجٹ کی تمام تر تفصیلات آئی ایم ایف کو فراہم کردیں، وزارت خزانہ نے بجٹ کا حجم، خسارہ، محصولات، ادائیگیوں کی تفصیلات شئیر کیں تاہم پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ اختلاف کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر ہے، آئی ایم ایف کو بجٹ سے متعلق کیا تفصیلات فراہم کی گئی،ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے نویں جائزہ کی بحالی کیلئے آخری کوشش بھی کر دی، آئی ایم ایف کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی طلب کردہ تفصیلات بھی پاکستان کی جانب سے فراہم کر دی گئی، ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف پاکستان کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 4.5ارب ڈالر سے کم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے تاہم اگر سٹاف لیول ہوجائے تو پاکستان کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی کم کریگا، وزارت خزانہ حکام کا موقف ہے کہ نواں جائزہ جولائی 2022تا فروی 2023 تھا تو کیوں تفصیلات دیں تاہم حکومت کے کہنے پر تمام تفصیلات فراہم کی گئیں۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کو فراہم کی جانیوالی بجٹ تجاویز کے مطابق قرض اور سود کی ادائیگی کیلئے 8ہزار ارب روپے، دفاعی اخراجات کیلئے 1700ارب روپے، نان ٹیکس آمدن کے ذریعے 2500ارب روپے رکھنے کی تجاویز دی گئی ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک سے منافع کی مد میں 900ارب روپے آنے اور پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی سے 750ارب روپے آنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، آئندہ سال اعانتوں کی مد میں 1300ارب، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کفیصد رکھنے کی تجاویز ہیں، وفاق اور صوبوں  کا بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 4.8سے 5فیصد رکھنے کی تجاویزہیں اس کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے ساتھ آئندہ مالی سال کیلئے بھی فنانسنگ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق معاہدے میں التواء کی وجہ بین الااقومی اورپاکستان کی سیاسی صورتحال ہے، ایسے مطالبات پرعمل درآمد کی توقع کی جا رہی تھی جومذاکرات میں نہیں کیے جاتے، یہ مطالبات امریکہ کی طرف سے مختلف سطح پر ہونے والی ملاقاتوں میں کیے جا رہے تھے جبکہ چین اورپاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات، اعتماد کا فقدان معاہدہ نہ ہونے کی ایک وجہ ہے، ذرائع وزارت خزانہ کا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان سے ضمانت چاہتا ہے کہ قرض کی رقم سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہ ہو سکے جبکہ آئی ایم ایف متوقع نگران حکومت کو معاہدے پر کاربند رہنے کی بھی ضمانت چاہتا ہے، آئی ایم ایف بجٹ میں ایسے اہداف چاہتا ہے جن سے انحراف نہ ہوسکے، نویں جائزے کے بعد پاکستان کو 1.2ارب ڈالر ملنے تھے جبکہ پاکستان کو پروگرام میں شیئر 2.6ارب ڈالر ملنا رہتا ہے،پاکستان کا آئی ایم ایف پروگرام جون کی تیس تاریخ کو ختم ہورہا ہے جبکہ آئی ایم ایف نے نویں جائزہ سے پہلے چھ ارب ڈالر کا انتظام کرنے کا کہا تھاجس پر پاکستان نے سعودی عرب اور یو اے ای سے تین ارب ڈالر کا گارنٹی دلوائی تھی۔