آئی ایم ایف سے معاملات حتمی مراحل میں داخل ہو چکے،گورنر سٹیٹ بینک

اسلام آباد (آن لائن)گورنر سٹیٹ بینک نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کو مالی زخائر پر دباؤ بیرونی فنانسنگ کے کم ہونے کی وجہ سے ہے،آئی ایم ایف کے جائزے میں تاخیر کی وجہ سے بیرونی فنانسنگ رک گئی ہے،آئی ایم ایف سے معاملات حتمی مراحل میں داخل ہوچکے ہیں،مالی ذخائر 4.3 ارب ڈالر کے ہیں اور ایک ہفتے میں ڈیڑھ ارب ڈالر اضافہ ہوا ہے۔قرضوں کی واپسی کی وجہ سے بھی مالی ذخائر میں کمی ہوئی ہے۔ دو تین ماہ مہنگائی کا دباؤ رہے گا اورروااوسط مہنگائی 26.5 فیصد ہوگی۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ ایس سی او حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کمیٹی کو بتایا کہ فنڈز کی عدم دستیابی داسو سے دنیور رابطہ کاری کا منصوبہ تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔ حکام نے بتایا کہ 2 ارب روپے کے منصوبے پر اب تک 59 فیصد کام مکمل کیا ہے۔ وزارت منصوبہ بندی حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں مالی سال 30 کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے اور اس پر 5 کروڑ 80 لاکھ خرچ کئے گئے۔ ہم نے 12 کروڑ روپے جاری کئے ہیں پہلے وہ خرچ ہوجائیں۔ ایس سی او حکام نے بتایا دو ہفتے قبل 12 کروڑ روپے جاری کئے ہیں وہ خرچ ہوجائیں گے۔ چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا جب تک آپ رقم خرچ نہیں کریں گے تو آپ کو مزید رقم کیسے ملے گی؟ٹھیکیداروں کو ادائیگی کریں تاکہ آپ کو مزید رقم مل سکے۔ کمیٹی نے ایس سی او حکام کو ادائیگی کرنے کے بعد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی،۔اجلاس میں مالی ذخائر میں کمی، مہنگائی میں اضافہ، برآمدات میں کمی اور بلند شرح کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی ممبر سینیٹر محسن عزیز نے کہا حکومتی کوئی عہدیدار یہاں موجود نہیں ہے کیسے ان معاملات پر بات ہوگی، شرح سود میں اضافہ کو کم کریں آپ 170 ارب روپے حاصل کرسکتے ہیں،شرح سود میں اضافے سے کیسے مہنگائی کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے، پاکستان جیسی معیشت کو اس فائدہ نہیں ہوسکتا، مہنگائی کی تاریخی بلند ترین شرح ہے اور 1971 کی جنگ کے بعد بھی مہنگائی اتنی نہیں ہوئی۔گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا جب یہ سال شروع ہوا تو معیشت پر کافی دباؤ تھا، اس وقت دو بڑے چیلنجز ہیں جس میں مہنگائی ہے اور بیرونی فنانسنگ کا ہے، اس سال یہ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ 10 ارب ڈالر کا جاری خسارہ ہوگا، گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا رواں مالی سال کے آخر میں جاری خسارہ 7 ارب ڈالر کا ہوگا.