اسلام آباد(آن لائن) وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ ہر چیز کو باہمی طور پر طے کر لیا گیا ہے، ان مذاکرات کے تحت 170 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے پڑیں گے،کوشش ہے کہ کوئی ایسا ٹیکس نہ لگے جو عام آدمی پر بوجھ بنے، نئے ٹیکسز کے لیے منی بجٹ لانا ہو گا۔آئی ایم ایف وفد کے پاکستان سے واپس جانے کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد ایم ای ایف پی کا ڈرافٹ مل گیا ہے۔ اب پیر کو ورچوئل میٹنگ ہوگی جس میں چیزوں کو آگے لے کر چلیں گے۔انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پیکج میں 170 ارب کے ٹیکسز لگانا ہوں گے اس میں حتی الامکان کوشش ہے کہ کوئی ایسا ٹیکس نہ لگے جو عام آدمی پر بوجھ بنے، نئے ٹیکسز کے لیے منی بجٹ لانا ہو گا، اب اس حوالے سے آرڈیننس یا منی بل کے معاملات کو دیکھیں گے، یہ 170 ارب روپے اسی مالی سال میں پورے کرنا ہیں۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ یہ وہ پروگرام ہے جس کا معاہدہ عمران خان حکومت نے کیا، یہ ایک پرانا معاہدہ ہے جو چند بار التوا کا شکار ہوا، معاہدے کو پورا کرنے کیلئے ہم پوری کوشش کررہے ہیں، وزیراعظم کچھ وجوہات کی بنا پر لاہور میں تھے، ہم نے زوم میٹنگ کی، حکومت اور معاشی ٹیم معاہدے پر پوری تگ و دو کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں 24 ویں معیشت کو 47 ویں معیشت پر لاکھڑا کر دیا ہے، اب چیزوں میں کوئی ابہام نہیں، ہم کوشش کریں گے کہ پاکستان تاریخ میں دوسری مرتبہ آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل کرے، وزیراعظم نے بھی کہا ہے کہ ہم آئی ایم ایف سے معاہدے پر عملدرآمد کریں گے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمارے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ 10 روز تک مذاکرات جاری رہے جس کے دوران پاور سیکٹر، مالیاتی شعبے سمیت دیگر اہم شعبوں پر تبادلہ خیال اور بات چیت کی گئی توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانی ہیں وہ کابینہ کے ذریعے طے ہوئی ہیں اس پر عمل کریں گے، اس میں ضروری کام آگے کا فلو روکنا ہے جب کہ گیس سیکٹر میں بھی گردشی قرضے کو مزید روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹارگٹڈ سبسڈیز کو کم کریں گے، گیس کے سرکلر ڈیٹ کو بھی صفر کرنا ہے آئی ایم ایف سے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی کمٹمنٹ پوری ہو چکی ہے، پیٹرول پر 50 روپے کی حد پوری کر چکے ہیں اور ڈیزل پر 40 روپے کی کمٹمنٹ پوری کر چکے، اب اس پر بقیہ دس روپے 5،5 روپے کر کے پورا کریں گے، بے نظیر انکم سپورٹ میں طے کیا ہے کہ 360 ارب سے حکومت 400 ارب پر لے کر جائے گی۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس بات پر اتفاق ہے کہ پیٹرول پر سیلز ٹیکس نہیں ہو گا، جہاں تک جی ایس ٹی کی بات ہے تو وہ 170 ارب کے ٹیکسز میں شامل ہیں۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اب چیزوں میں کوئی ابہام نہیں، ہم کوشش کریں گے کہ پاکستان تاریخ میں دوسری مرتبہ آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل کرے۔
Load/Hide Comments



