آ صف زرداری سے متعلق دیئے گئے اپنے بیان پرقائم ہوں، شوق سے ہتک عزت کا دعوی کریں، عمران خان

لاہور (آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آصف زرداری سے متعلق دیئے گئے اپنے بیان پرقائم ہوں،آصف زرداری شوق سے ہتک عزت کا دعوی کریں۔لاہور میں اپنی رہائشگاہ زمان پارک میں سینئر صحافیوں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اسمبلیاں تحلیل کرنامیری بہترین حکمت عملی تھی اسمبلیاں تحلیل ہوتے ہی حکومت بند گلی میں آ چکی ہے۔اسمبلیاں تحلیل نہ کرتے توعام انتخابات نہیں ہونے تھے۔ اب اگر 90روز میں انتخابات نہ کرائے گئے تو آئین شکنی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی میرا ایک اور میڈیکل چیک اپ ہوناہے ٹھیک ہو کر انتخابی مہم کا آغاز کروں گا۔عمران خان نے کہا کہ آصف زرداری سے متعلق دیئے گئے بیان پر قائم ہوں، سابق صدر شوق سے ہتک عزت کا دعوی کریں۔پی ٹی آئی چیئرمین نے مزید کہا کہ ہتک عزت کا دعوی وہ کرتے ہیں، جن کی اپنی کوئی عزت ہوتی ہے۔بعدا زاں ویڈیو لنک سے خطاب کرتیہوئے چیئر میں تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ پشاور حملے پر افسوس ہے، تفتیش سے پہلے گورنر نے الیکشن ملتوی کرنیکا خط کیسے لکھ دیا؟ پشاور حملے کو استعمال کرکے یہ الیکشن آگے نہیں بڑھانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے طالبان سے مذاکرات کرانے میں سہولت کاری کی، امریکیوں کے انخلا پر افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ تھا، افغانستان میں خانہ جنگی ہوتی تو پاکستان متاثر ہوتا۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا کہناتھا کہ میں ملک میں دہشت گردی اور مہنگائی کا ذمہ دار نہیں ہوں، حکومت میں ہوتا تو میں جواب دہ ہوتا۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں ملک میں دہشت گردی اور مہنگائی کا ذمہ دار نہیں ہوں، آج میری حکومت ہی نہیں تو میں ذمہ دار کیسے ہوسکتا ہوں، برے حالات کی ذمہ داری میری حکومت سے پہلے 30 سال سے اقتدار میں رہنے والوں پر ہے، میں حکومت میں ہوتا تو میں جواب دہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ سے کوئی اختلافات نہیں تھے، ہم ایک پیج پر تھے، باجوہ اور میرے ایک پیج پر ہونے سے بہت سے اچھے اچھے کام ہوئے، توسیع ملنے کے بعد باجوہ نے کہا احتساب سے پیچھے ہٹ جاؤ، باجوہ نے مخالفین کو این آر او دینے کا کہا تو میں نے منع کردیا، باجوہ سے دوسرا اختلاف جنرل فیض کے مسئلے پر ہوا، افغان بے امنی کے اثرات کا خدشہ تھا، اس لیے فیض کو عہدے پر رکھنا چاہتا تھا، 30 سے 40 ہزار فائٹرز افغانستان میں تھے، فیصلہ ہوا کہ فورسز اور ارکان اسمبلی طے کریں گے کہ فائٹرز کو پاکستان میں سیٹل کیسے کرنا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے اپنے 1100 ارب روپے کے کرپشن کیسز ختم کر الیے، ان میں ملک چلانے کی اہلیت نہیں تھی تو انہیں میری حکومت ختم نہیں کرنی چاہیے تھی۔