پا کستان کے معاشی مفادات امریکا کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، بلاو ل بھٹو

واشنگٹن(آن لائن) وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مل کرکام کرنے کے خواہاں اور دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینا چاہتے،پاکستان کے معاشی مفادات امریکا کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، عہدہ سنبھالنے کے بعد خارجہ پالیسی کو اہمیت دی۔ ٹی ٹی پی سے متعلق ہمیں اپنی پالیسی پرنظرثانی کرنی چاہیے،آسان راستہ افغان عبوری حکومت کیساتھ تعاون کا ہے تاکہ اس مسئلے سے نمٹا جاسکے اور یہ میرا پسندیدہ راستہ ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے واشنگٹن میں اٹلانٹک کونسل ساؤتھ ایشیاء کے مباحثے سے خطاب اور امریکی میڈیا سے گفتگو میں کیا۔اپنے خطاب میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد خارجہ پالیسی کو اہمیت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن اوراستحکام کیلیے امریکاکی کوششیں قابل تحسین ہیں جب کہ پاکستان کے امریکا کے ساتھ معاشی مفادات جڑے ہیں۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی کمیونٹی بڑی تعداد میں امریکا میں کررہی ہے، زراعت، صحت اور دیگر شعبوں میں تعاون کے مواقع موجودہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان کومختلف بحرانوں کاسامنا ہے جب کہ پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات کا سامنا کیا، موسمیاتی چیلنج سے نمٹنے کیلییعالمی برادری سے مل کرکام کرینگے۔کونسل سے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان کاایک تہائی حصہ اس وقت زیرآب ہے، جون سے ستمبر تک پاکستان میں ریکارڈبارشیں ہوئیں جب کہ حالیہ سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، 33 ملین افرادسیلاب سے متاثر ہوئے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمیں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے مسائل کو حل کرنا ہے لہٰذا سیلاب متاثرین کی بحالی کیلیے عالمی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے، ہم نے سیلاب سے ہونے والی تباہی سے نمٹناہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ آئندہ چیلنجز سے نمٹنے کیلیے حکمت عملی پرکام کررہے ہیں کیونکہ کورونا کے باعث معیشت کونقصان پہنچا۔بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ افغانستان کی صورتحال اوریوکرین جنگ نے دنیا کی معیشت کو متاثر کیا ہے تاہم دہشت گردی کے خاتمے کیلیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے واضح کردیا کہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہوا جب کہ دہشت گردی کے باعث ہزاروں سیکیورٹی اہلکار اور شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ امریکی میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ ٹی ٹی پی سے متعلق ہمیں اپنی پالیسی پرنظرثانی کرنی چاہیے اور ٹی ٹی پی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جامع طریقہ کار کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آسان راستہ افغان عبوری حکومت کیساتھ تعاون کا ہے تاکہ اس مسئلے سے نمٹا جاسکے اور یہ میرا پسندیدہ راستہ ہوگا لیکن اس مسئلے سے نمٹنے کا یہ واحد راستہ نہیں ہے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے افغانستان میں لڑکیوں کی جامعات میں تعلیم پر عائد پابندی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام اختلافات کے باوجود بہترین طریقہ یہ ہے کہ طالبان حکمرانوں کے ساتھ بات چیت جاری رہنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم اور دیگر معاملات پر اختلافات کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ مقاصد کے حصول کا راستہ کابل اور عبوری حکومت ہی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ طالبان کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے، انہوں نے افغانستان میں عدم استحکام اور اسلامک اسٹیٹ گروپ کے ابھرنے پر خبردار کیا۔انہوں نے کہا کہ کیا ہم ایسی متبادل اپوزیشن کے بارے میں تصور کرسکتے ہیں جو جائز طریقے سے طالبان کو روکنے کی پوزیشن میں ہوں۔ دریں اثناء ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ بلاو ل بھٹو کی گزشتہ روز امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن سے گفتگو ہوئی ہے۔دونوں وزرائے خارجہ کے مابین گفتگو انتہائی گرمجوش اور خوشگوار رہی۔پاکستان اور امریکہ کے مابین دو طرفہ تعلقات کا جامع احاطہ کیا گیا۔افغانستان کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فریقین نے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔وزرائے خارجہ نے وسیع البنیاد ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر خارجہ نے سیلاب کے بعد 97 ملین ڈالر کی امداد کی فراہمی پر امریکی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔وزیر خارجہ بلاول نے امریکی ہم منصب کو سیلاب سے بحالی، تعمیر نو کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔