وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی ایم کیو ایم دفتر آمد، تحریک انصا ف کا سخت ردعمل

کراچی(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خرم شیرزمان اور بلال غفار نے وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ کے ایم کیو ایم دفتر آمد پر اپنے سخت ردعمل میں کہا کہ ایم کیو ایم اور رانا ثناء کی ملاقات نے سیاست کے اصولوں کو بھی ثبوتاژ کردیا،پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی خرم شیرزمان نے کہا کہ حقیقی مہاجر اور لاپتا افراد کے ورثاء جانتے ہیں یہ مہاجروں کی نہیں بلکہ وزارتوں والی جماعت ہے، لاپتا افراد پر سیاست کرنے والے اپنے کارکنان کے لیے مزاحمت کے بجائے مفاہمت کو ترجیح دے رہے ہیں، کوئی ایک بلیک میلنگ کا بیان نہیں آیا کہ ہم حکومت چھوڑ رہے ہیں کیا خالد مقبول لاپتا افراد کیلئے نواز شہباز مریم سے سوال کرنے کی ہمت کریں گے؟ ایک وزارت کے لیے پوری مہاجر قوم کا سوداایم کیو ایم نے کیا، مہاجر قوم جان چکی ہے ایم کیو ایم صرف ان کو استعمال کرنا جانتی ہے، ایم کیو ایم اور رانا ثناء کی ملاقات کی اسٹوری اچھی مگر اسکرپٹ بے کار تھا، پی ٹی آئی کراچی کے صدر بلال غفار نے کہا کہ رانا ثناء ایم کیو ایم کے دکھوں پر مرہم کے بجائے نمک چھڑکنے پہنچے ہیں، ایم کیو ایم کے کارکنان ن لیگ کے دور حکومت میں لاپتا ہوئے، اس تلخ حقیقت کو ایم کیو ایم کیسے اور کب تک فراموش کرے گی؟ پی ٹی آئی دور میں لاپتا افراد کیلئے باقاعدہ قانون سازی کی گئی تھی، امپورٹڈ حکومت کی طرف سے ایم کیو ایم نمائندوں کو 12 بارہ کروڑ فنڈز کی مد میں دیے گئے، یعنی ایک طرف لاپتا افراد کی لاشوں پر ہمدردی دوسری طرف سودا ہورہا ہے، رانا ثناء کے پاس اس وقت ملک کی اہم وزارت ہے، وزارت داخلہ کی حیثیت سے ان پر گمشدہ افراد کیلئے اقدامات تو زیب دیتے ہیں لیکن افسردہ بیانات نہیں، ن لیگ کی حکومت میں لاپتا افراد کی لاشوں کا ملنا حکومت کی ناکامی کاکراچی(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خرم شیرزمان اور بلال غفار نے وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ کے ایم کیو ایم دفتر آمد پر اپنے سخت ردعمل میں کہا کہ ایم کیو ایم اور رانا ثناء کی ملاقات نے سیاست کے اصولوں کو بھی ثبوتاژ کردیا،پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی خرم شیرزمان نے کہا کہ حقیقی مہاجر اور لاپتا افراد کے ورثاء جانتے ہیں یہ مہاجروں کی نہیں بلکہ وزارتوں والی جماعت ہے، لاپتا افراد پر سیاست کرنے والے اپنے کارکنان کے لیے مزاحمت کے بجائے مفاہمت کو ترجیح دے رہے ہیں، کوئی ایک بلیک میلنگ کا بیان نہیں آیا کہ ہم حکومت چھوڑ رہے ہیں کیا خالد مقبول لاپتا افراد کیلئے نواز شہباز مریم سے سوال کرنے کی ہمت کریں گے؟ ایک وزارت کے لیے پوری مہاجر قوم کا سوداایم کیو ایم نے کیا، مہاجر قوم جان چکی ہے ایم کیو ایم صرف ان کو استعمال کرنا جانتی ہے، ایم کیو ایم اور رانا ثناء کی ملاقات کی اسٹوری اچھی مگر اسکرپٹ بے کار تھا، پی ٹی آئی کراچی کے صدر بلال غفار نے کہا کہ رانا ثناء ایم کیو ایم کے دکھوں پر مرہم کے بجائے نمک چھڑکنے پہنچے ہیں، ایم کیو ایم کے کارکنان ن لیگ کے دور حکومت میں لاپتا ہوئے، اس تلخ حقیقت کو ایم کیو ایم کیسے اور کب تک فراموش کرے گی؟ پی ٹی آئی دور میں لاپتا افراد کیلئے باقاعدہ قانون سازی کی گئی تھی، امپورٹڈ حکومت کی طرف سے ایم کیو ایم نمائندوں کو 12 بارہ کروڑ فنڈز کی مد میں دیے گئے، یعنی ایک طرف لاپتا افراد کی لاشوں پر ہمدردی دوسری طرف سودا ہورہا ہے، رانا ثناء کے پاس اس وقت ملک کی اہم وزارت ہے، وزارت داخلہ کی حیثیت سے ان پر گمشدہ افراد کیلئے اقدامات تو زیب دیتے ہیں لیکن افسردہ بیانات نہیں، ن لیگ کی حکومت میں لاپتا افراد کی لاشوں کا ملنا حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے،ایم کیو ایم کا ماڈل ٹاؤن واقعہ کے قاتل سے انصاف کی امید لگانا ناقابل سمجھ ہے، جس طرح دونوں جماعتیں عوام کو آسانی سے بیوقوف بنانا چاہتی ہیں یہ اتنا آسان نہیں، عوام جانتے ہیں ایم کیو ایم رونا دھونا کرکے بھی حکومت سے اتحاد ختم نہیں کرے گی