اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جہاں تک جبری گمشدگیوں کا معاملہ ہے اس سے زیادہ دکھی انسانیت کی خدمت کہیں نہیں ہوسکتی آپ لوگوں کے عزیزوں اور پیاروں کو غائب کرکے لاپتہ کردیں چیف جسٹس نے جس طرح اس معاملے زور دیا اس سے لوگوں کو پہلے بھی ریلیف ملا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ حکومتی کوششوں سے بھی لوگوں کو ریلیف ملا ہے کچھ ایسی حقیقتیں ہیں جو اوپن کورٹ میں بیان نہیں ہو سکتیں،مسئلے کے حل کے لیے مدد اس صورت ہوسکتی ہے اگر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ ان کیمرہ سماعت کریں جب ان سے پوچھا گیا کہ عمران خان کہتے ہیں جیل جا کر اور خطرناک ہو جاؤں گا اس پر انھوں نے کہا یہ صرف کرنے کی باتیں ہیں جب جیل گیا لگ سمجھ جائے گی، ویسے جیل جانے کا موسم گزر رہا ہے جولائی اگست میں بھیجنا چاہیے تھا اس موقع پر وفاقی وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ پندرہ بیس سال پرانا مسئلہ ہے،کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے کمیٹی تین زاویوں سے اس مسئلے کو دیکھ رہی ہے میں کمیٹی کے کام میں مداخلت کروں تو زیادتی ہوگی سنجیدہ معاملہ ہے اس سے متعلق آپ لوگوں سے بھی بات کریں گے۔
Load/Hide Comments



