قلعہ سیف اللہ (آن لائن)وزیراعظم میاں محمدشہبازشریف نے این ڈی ایم اے کو بارش اور سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء کو معاوضہ کی رقم 24 گھنٹے میں ادا کرنے اوربارشوں سے مکمل یا جزوی طورپر منہدم مکانات کیلئے5لاکھ کااعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ سیلاب متاثرین کیلئے سہولات کی کمی انتہائی افسوسناک ہے،امید ہے کہ غفلت برتنے والوں کے خلاف فی الفور کارروائی کی جائیگی اور متاثرین کو بروقت سہولیات فراہم کی جائیں گی،سیلاب متاثرین کی بحالی چیلنج بڑا ہے مل کر مقابلہ کریں گے وفاق اور بلوچستان حکومت قومی جذبے سے بحالی اور آبادکاری کیلئے پرعزم ہیں۔ آخری گھر جب تک آباد نہیں ہوتا چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ مخیر حضرات بھی آگے آئیں،طوفانی بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلئے این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے مل کر سروے کریں، متاثرین کو رہائش، خوراک اورعلاج کی تمام ترسہولیات فراہم کی جائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو وفاق کی جانب سے 10 لاکھ روپے دیے جا رہے ہیں، آج بھی یہاں چیک تقسیم کیے جائیں گے، جن لوگوں کے مکان مکمل طور پر منہدم ہو گئے ہیں ان کو 5 لاکھ روپے اور جن کے گھروں کو جزوی نقصان ہوا ہے ان کو 2 لاکھ روپے دیے جائیں گے بعدازاں جزوی طورپر مکانات کونقصان پہنچنے کی رقم میں اضافہ کرکے 5لاکھ روپے کردیاگیاہے۔شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب سے تباہ ہونے والی فصلوں اور دیگر نقصانات کا جائزہ لینے کے بعد مزید متاثرین کی بھی مدد کی جائے گی۔وزیر اعظم کا کہنا تھا سیلاب متاثرین کی بحالی چیلنج بڑا ہے مل کر مقابلہ کریں گے بحالی اور امداد کے لیے این ایچ اے کی کوششیں لائق تحسین ہیں، میڈیکل کیمپ کا جال پھیلایا جائے، غیر معمولی بارشوں سے وسیع پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ قیمتی انسانی جانوں کے نقصان کیساتھ انفراسٹکرکچر تباہ ہوا، وفاق اور بلوچستان حکومت قومی جذبے سے بحالی اور آبادکاری کیلئے پرعزم ہیں، آخری گھر جب تک آباد نہیں ہوتا چین سے نہیں بیٹھیں گے، مخیر حضرات بھی متاثرین کی مدد کے لیے آگے آئیں۔اس سے قبل چیف سیکرٹری بلوچستان عبدل عزیز عقیلی اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے وزیر اعظم کو بریفینگ میں بتایا کہ جون کی 13 تاریخ کو بارش کا سلسلہ شروع ہوا۔ ماضی کے مقابلے میں 500 فیصد زیادہ حالیہ اسپیل میں بلوچستان میں بارش ہوئی۔ بارش کا 30 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔
Load/Hide Comments



