وزیراعظم کے دورہ بلوچستان کی ویڈیو ایڈٹ کرکے اس میں آوازیں شامل کی گئیں،مریم اورنگزیب

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ بلوچستان کی ویڈیو ایڈٹ کرکے اس میں آوازیں شامل کی گئیں، یہ سیاسی مخالفین کو غداری سے لنک کرانے والی بشریٰ بی بی کی ‘ارسلان بیٹے’ کو ہدایت کا تازہ شاہکار ہے۔ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم شہبازشریف کے دورہ بلوچستان کی اصلی اور ایڈٹ شدہ ویڈیو دونوں ساتھ ملا کر جاری کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا اصلی اور بشریٰ بی بی کی تیارکردہ دونوں وڈیوز پیش خدمت ہیں۔ مریم اورنگزیب نے ویڈیو کو ایڈٹ کرنے اور جھوٹا پروپیگنڈا کرنیکا ذمہ دار پی ٹی آئی سوشل میڈیا ونگ کو قرار دیا او ر کہا ویڈیو میں نے بنائی اور گزشتہ روز سہہ پہر 4 بج کر28 منٹ پر میں نے میڈیا کو جاری کی تھی اور اے آروائی کے پاس بھی اوریجنل ویڈیو موجود ہے۔انہوں نے کہا ویڈیو ایف آئی اے سائیبر کرائم ونگ بھجوا دی ہے تاکہ وڈیو میں آوازیں شامل کرنے والے جعلساز قانون کی گرفت میں آئیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحافت اور آزادی اظہار کی آڑ میں جھوٹ پھیلانے عمران خان کی کرپشن سے توجہ ہٹانے کے ایجنڈے کا حصہ بننے والے اے آروائی کو بھی شرم آنی چاہئے جو سچائی اور حقیقت کا ہر لمحے قتل کرتا ہے۔ اربوں روپے کے غیرقانونی ٹھیکے مل رہے ہوں تو پھر صحافت کے لبادے میں جھوٹ کا پرچار ہی ہوگا۔ وفاقی وزیر اطلاعات کا کہناتھا عمران صاحب کی یہ اوچھی، نیچ اور گھٹیا حرکت اس مائنڈ سیٹ کا اظہار ہے جو مدینہ کی ریاست کے پاک نام سے لے کر فاٹف،کورونا سیلاب،مذہب،سیاسی مخالفین کی صحت، معیشت،عوام کے روزگار پہ جھوٹ بولتا ہے۔ مریم اورنگزیب نے کہا مری میں سیاحوں کی لاشیں برف کے نیچے پڑی رہیں بشری بی بی نے جانے کی اجازت نہیں دی۔ پہاڑوں کی سیر کرتا رہا۔ اب تکلیف ہو گئی کہ وزیراعظم شہباز شریف عوام کی مشکلات میں ان کی مدد کیوں کرتا ہے۔ان کے پاس کیوں جاتا ہے، ان سے ہمدردی کیوں کرتا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر وزیراعظم کی سیلاب سے متاثرہ علاقے کا فضائی جائزہ لیتے ہوئے ویڈیو سامنے ا?ئی تھی۔اسی دوران ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی جس میں فضائی جائزہ لینے کے دوران وزیراعظم کوکہا جارہا ہے کہ ‘سر کیمرہ آن ہے اور آپ کی ویڈیو بن رہی ہے’۔اب مسلم لیگ ن کی جانب سے اصلی اور ایڈٹ شدہ ویڈیو دونوں ساتھ ملا کر جاری کی گئی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہیکہ ویڈیو کو ایڈٹ کیا گیا ہے۔