شہر قائد کے مسائل کے فوری حل کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھا رہے ہیں،مرادعلی شاہ

کراچی (آن لائن)شہر قائد کے مسائل کے فوری حل کے لییہر ممکن اقدام اٹھا رہے ہیں۔ ہم کراچی واٹر بورڈ سے اسٹڈی بھی تیار کراچکے ہیں کہ کراچی کے انفرااسٹرکچر کے لیے کتنے بلین ڈالرز درکار ہوں گے تاکہ شہر کو تفریحی و تجارتی اعتبار سے پْرکشش اور کامیاب بنایا جاسکے۔ اس بات کا اظہار وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے’امپورٹینس آف سٹی اینڈ ریجنل پلاننگ فار بزنس ڈیولپمنٹ، کامرس اینڈ پراسپیریٹی فار دی پیپل آف کراچی‘ایف پی سی سی آئی کی جانب سے منعقد کردہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ دسمبر 2016 میں ہم نے کے سی آر منصوبے کو سی پیک میں منظور کرالیا تھا جوکہ 2 بلین ڈالر کا پراجیکٹ تھا۔ جس کے لیے15 فیصد فنڈز کی ضرورت تھی۔ ہم نے اْس کاانتظام بھی کردیا تھا۔اس کے بعد حکومت تبدیل ہوگئی اور بعد میں آنے والی حکومت پراجیکٹ سے ہی دستبردار ہوگئی۔ایسا ہی حشر K-4منصوبے کا ہوا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے شاہراہِ فیصل ، طارق روڈ، یونیورسٹی روڈ، حب ریور روڈ،کیر انڈر پاس، فلائی اوورز اور رین اسٹوم واٹر ڈرینیج بنائیہیں۔انہوں نے کہا کہ 65 بلین روپے ٹریٹمنٹ پلانٹ کا پراجیکٹ ہے جس کو ہم پی پی پی موڈ کے تحت بنارہے ہیں۔حب سے کراچی کو 100 ایم جی پانی کا کوٹہ ہے۔حب کینال میں مسائل ہونے کے باعث پورا پانی نہیں آتا۔انہوں نے کہا کہ آج میں نے کینال کی کنوی اینس سسٹم بنانے کی منظوری دی ہے۔کورنگی کراسنگ پْل بنانے کی بھی آج منظوری دی ہے۔انہوں نے کہا کہ بہت سارے لوگ ڈیوولوشن کی بات کرتے ہیں۔ڈیوولوشن کے حوالے سے احتساب ہی نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 22 شاہراہیں ڈیوولوشن کے دور میں کمرشلائز کی گئیں جس کی کوئی جانچ پڑتال ہی نہیں کی گئی۔لوگوں نے اس کمرشلائز یشن کی مخالفت کی۔عمارتوں کی تعمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ عدالت میں شکایت لے کر گئے کہ ہمارے گھروں کے سامنے بلند عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں۔2000، 2001 سے 2008 تک یہ ہوتا رہا۔اس کے نتیجے میں سندھ حکومت پر پابندی لگائی کہ لینڈ الاٹ نہ کریں۔حکومت کو کام کرنے نہیں دیا جاتا۔نیسلا ٹاور کیس میں بھی سندھ حکومت کا قصور نہیں تھا،14 منزلہ عمارت گرائی گئی۔انہوں نے کہا کہ جس پارٹی کو عوام نے حکومت کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے اْن کو تو کام کرنے دیں۔انہوں نے کہاکہ میں نے اس شہر میں ماضی کی تمام بارشیں دیکھیں ہیں۔جولائی۔ اگست2020 میں 613 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ابھی 513 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔ہمارے یہاں رین فال کاسالانہ اوسط 125 ملی میٹر بارش ہے۔ 2020 میں صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک لگاتار بارش پڑی تھی۔انہوں نے بارش کے پانی کی نکاسی کے حوالے سے ایک مسئلہ یہ بھی اٹھایا کہ چونکہ اس بار قربانی کی عید بھی منائی جارہی تھی اورعیدالاضحیٰ کے موقع پر ہر مسلمان یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ قربانی کرے اور جب کوئی گائے خریدتا ہے تو اْس کو بٹھانے کے لیے فرش پرمٹی ڈالتا ہے اورقربانی کے بعد یہ ساری مٹی کو دیگر آلائشوں کے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور یہ ساری مٹی بارشوں میں سیوریج سسٹم میں داخل ہو گئی۔