اسلام آباد (آن لائن) صوبائی وزیرپنجاب عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حمزہ شہباز واضح اکثریت سے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے،عمران خان نے پارٹی سربراہ کے طور پر ہی اپنے ارکان کو پرویز الہٰی کو ووٹ دینے کا کہاتھا جبکہ ایسی ہی ہدایات چوہدری شجاعت نے جاری کیں تو معیار بدل دیا گیا۔منگل کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا عمران خان نے اپنے ارکان کو پرویز الہٰی کو ووٹ دینے کا کہا تھا اور عمران خان نے یہ ہدایات پارٹی سربراہ کے طور پر جاری کی تھیں۔ ایسی ہی ہدایات چوہدری شجاعت نے جاری کیں تو معیار بدل دیا گیا۔ انہوں نے کہا رن آف الیکشن 186ووٹ حاصل نہ کرنے پر کرایا جاتاہے۔ 25ارکان کو ڈی سیٹ کرکے25ووٹوں کو شمارکیا گیا،۔ انہوں نے کہا چوہدری شجاعت حسین کے خط پر اعتراض کیا جاتاہے،عمران خان کا خط معتبر سمجھا جاتاہے۔ لوگ انصاف کے دوہرے معیار پرسوال اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا بارایسوسی ایشن کیسابق صدور نے بھی سوال اٹھایا کہ دوہرا معیار کیوں ہے؟۔ انہوں نے کہا ترامیم میں درج ہے کہ پارٹی سربراہ ہی ہدایات جاری کرسکتاہے۔ نواز شریف کے معاملے پر پارٹی سربراہ کے کردارپرروشنی ڈالی گئی تھی۔ انہوں نے کہا پارٹی ہیڈ کی ہدایات اگر مقدم نہیں ہیں تو کیا ضمنی الیکشن کالعدم قراردیا جائیگا؟۔ انہوں نے کہا چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں 7ووٹ مسترد کیے گئے۔ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں کہا گیا کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ اتنا اہم معاملہ فل کورٹ کے بغیر حل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا عمران خان محاذآرائی اور گالم گلوچ کی سیاست کرتاہے۔ ہم عوام کی حالت بہتر کرنے کیلئے ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا آئینی ماہرین کا کہنا ہے فل کورٹ سے معاملے میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا فرح گوگی بہت سے مقدمات میں مطلوب ہیں۔ انھیں واپس لے آئیں تو پتہ چل جائیگا کہ عمران خان نے کتنی کرپشن کی ہے۔
Load/Hide Comments



