اسلام آباد (آن لائن)وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومتی اتحاد کی تمام جماعتیں عدالت سے فل بینچ کی استدعا کر رہی ہیں،فل بینچ بنانے میں کیا حرج ہے، فل بینچ سے ڈر کس بات کا ہے؟اس اہم معاملے پر فل بینچ کا مطالبہ کرنا سیاسی جماعتوں کے 13 رکنی اتحاد کا آئینی حق ہے، شیری رحمان کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں سیاسی جماعتوں کی درخواست کو مسترد کرنے سے ہمیں مایوسی ہوئی ہے،اس آئینی بحران کا واحد حل فل بینچ کی تشکیل ہے،عدالت فل بینچ تشکیل دے کر اس آئینی معاملے کا ہمیشہ کے لئے حل کرے،یکطرفہ فیصلے سے ابہام میں مزید اضافہ ہوگا، اتحادی جماعتوں کے خدشات کو ختم کرنا تین رکنی بینچ کا فرض تھا،اس طرح کے عدالتی فیصلوں سے عوام میں تشویش کی لہر جنم لے گی،عوام میں تاثر جائے گا کہ ایک پارٹی کو فائدہ دینے کے لئے مخالف سیاسی اتحاد کی جائز استدعا کو بھی مسترد کیا گیا، پی ٹی آئی کی پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے پر 25 ارکان کا ووٹ مسترد ہوا، انہیں ڈی سیٹ کیا گیا،اسی طرح پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے پر 10 ارکان کے ووٹ مسترد ہوئے، شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آئین کی ایک جماعت کے لئے الگ اور دیگر جماعتوں کے لئے الگ تشریح کی جائے، ایوان میں پارلیمانی لیڈر کی تعیناتی پارٹی کا سربراہ کرتا ہے، پارلیمانی لیڈر کی تعیناتی بھی پارٹی کے سربراہ کے خط کی بنیاد پر کی جاتی ہے،اگر پارٹی کے سربراہ کوئی فیصلہ کرے تو پارلیمانی لیڈر اس کو تسلیم کرتا ہے، انہوں نے کہا کہپارٹی سربراہ کے فیصلے کو ہمیشہ ترجیح دی جاتی ہے۔
Load/Hide Comments



