کراچی(آن لائن) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ایوان میں جس جماعت کی اکثریت ہو اس کی حکومت بننی چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ایوان میں جس جماعت کی اکثریت ہے اس کی حکومت بننی چاہیے، کوئی خفیہ راستہ اور بیک ڈور طریقہ نہیں ہونا چاہیے کہ جس کو استعمال کرتے ہوئے کوئی عہدہ حاصل کیا جائے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ 2018 میں بھی یہ سوال ہونا چاہیے تھا کہ جس جماعت کی صوبے میں اکثریت تھی اس کو کیوں حکومت بنانے نہیں دی گئی، اس وقت کیوں جہازوں میں بھر بھر کر لوگ لائے گئے، وہ سب نے دیکھا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ شخص دوسروں کو کہتا تھا کہ لوگوں کو بھیڑ، بکریوں کی طرح لوگوں کو بند گیا ہے اور اسی شخص نے آج اس سے بھی بدتر طریقے سے لوگوں کو ہوٹل میں بند رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ منعقد ہو، ہم نے خود یہ بات الیکشن کمیشن کو بتائی تھی کہ 24 جولائی کو الیکشن ہوں لیکن اچانک انتخابات ملتوی کیے گئے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اسی روز ایم کیو ایم کی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کی گئی تھی جس کی ہم نے باضابطہ طور پر مخالفت کی تھی اور جو لوگ اور جماعتیں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں، وہ ہمارے خلاف نہیں، الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ گزشتہ دنوں بھی سندھ اور کراچی میں شدید بارشیں ہوئیں، کراچی کے ضلع جنوبی میں 3 گھنٹے کے دوران 162 ملی میٹر اور 5 انچ سے زیادہ ریکارڈ بارش ہوئی-
Load/Hide Comments



