اسلام آباد (آن لائن) چیئرمین پیپلز پارٹی و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی ملک میں جمہوریت, صاف شفاف الیکشن اور عوام کی معاشی حقوق کیلئے تین نسلوں سے جدوجہد کر رہی ہے،لاڑکانہ سے الیکشن جیتنے پر ہم پر دھاندلی کا الزام لگتا ہے یہ کس قسم کا مذاق ہے،خان صاحب کو شکایت ہے کہ ادارے نیوٹرل کیسے ہو گئے اگر ادارے نیوٹرل رہیں گے تو غیر جمہوری جماعتیں جیسے عمران خان کی جماعت جیت نہیں سکتی۔ خان صاحب کیطرح سندھ میں بھی کچھ کٹھ پتلی سیاست دان ہیں جن کو سامنے لایا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز قومی اسمبلی اجلاس میں غوثِ بخش مہر کی طرف سے سندھ میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن پر اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر آپ اپوزیشن کو بھرپور موقع دے رہے ہیں مجھے اندازہ نہیں کہ ایسے بھی اسمبلی چل سکتی ہے آپ نے اپوزیشن کی کم تعداد کے باوجود اپوزیشن کو زیادہ موقع دیاعوام جو مشکلات کا سامنا کر رہی ہے اسکو ہم سب کو اندازہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے بلدیاتی انتخابات ہورہے ہیں مناسب یہ ہے کہ سندھ اسمبلی میں اسکی آواز اٹھائی جاتی۔ ہم آمر اور ظالم کا سامنا کرکے آئے پیپلزپارٹی کو دھاندلی کے باوجود حکومت کا موقع ملا۔ اس ملک میں پیپلز پارٹی کیخلاف دھاندلی ہوتی تھی شہید محترمہ بے نظیر اور بھٹو کی جماعت کو روکنے کیلئے دھاندلی ہوتی تھی یہ جیت نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ خان صاحب کو شکایت ہے کہ ادارے نیوٹرل کیسے ہو گئے اگر ادارے نیوٹرل رہیں گے تو غیر جمہوری جماعتیں جیسے عمران خان کی جماعت جیت نہیں سکتی۔ خان صاحب کیطرح سندھ میں بھی کچھ کٹھ پتلی سیاست دان ہیں جن کو سامنے لایا جاتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انکو معلوم ہے کہ 2018 میں دھاندلی سے یہاں آئے جب صاف شفاف الیکشن ہوں گے تو انہیں بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا الیکشن سے ایک دن پہلے یہ سارے سندھ ہائی کورٹ جمع ہوئے تھے کہ الیکشن سے بھاگیں ابھی سے انکا رونا شروع ہوگیا۔ انہوں نے مزید رونا دھونا ہے فیز ٹو میں بھی ہمارے مخالفوں کی ضمانت ضبط ہوجائیگی۔ انہوں نے کہا انکا خوف یہ ہے کہ ادارے مداخلت نہیں کریں گے اور اگر مداخلت نہیں ہوتی تو پیپلزپارٹی جیتے گی۔
Load/Hide Comments



