اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ زاہد آمین کے پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ کرنے سے متعلق رپورٹ طلب کرلی،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں کمیشن ا پنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا، بار بار کہہ چکے ہیں جبری گمشدگی سنگین جرم اور آئین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، گزشتہ روز آٹھ سال سے لاپتہ زاہد آمین اور ایک سال سے لاپتہ صادق آمین کی بازیابی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی، درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ ایمان مزاری عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ اس موقع پر رجسٹرار لاپتہ افراد بازیابی کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں لاپتہ افراد کمیشن نے زاہد آمین کو جبری گمشدگی ڈیکلیئر کیا، اس موقع پر عدالت نے کہانے جب کہہ دیا کہ یہ جبری گمشدگی ہے تو آپ نے پروڈکشن آرڈر کس کو ایشو کئے؟ عدالت نے لاپتہ افراد کے کمیشن حکام سے استفسار کیا کہ کیا کمیشن صرف رسمی کاروائی کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کرتا ہے؟آپ پٹشنرز کو متعلقہ معلومات کیوں نہیں دے رہے؟ آپ کو تو خود پٹشنرز تک پہنچنا چاہیے۔ کمیشن لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ ٹھیک طریقے سے پیش نہیں آرہا آپ ان کے گھروں کو جائیں پروڈکشن آرڈر کب جاری ہوئے؟ تاریخ کیا ہے اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ زاہد آمین کا 14 ستمبر 2020 کو پروڈکشن آرڈر جاری ہوا۔ اس موقع پر عدالت نے کہا کہ کیا آپ پروڈکشن آرڈر جاری کرنا بھول گئے؟ جن کو جاری کیا کیا انہوں نے انکار کردیا؟ اس موقع پر رجسٹرار لاپتہ افراد بازیابی کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ کسی نے انکار نہیں کیا عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی کا لکھا۔ آپ نے 14ستمبر 2020 کو پروڈکشن آرڈر جاری کیا بادی النظر میں آپ کو کچھ نظر آیا ہو گا۔ اپنے ؎ آپ کو شرمندہ نہ کریں کیا اس سے بڑا کوئی ایشو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ہو سکتا ہے؟۔ کمیشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وضاحت کرے کیوں موثر اور قابل ذکر ایکشن نظر نہیں آرہا اس موقع پر عدالت نے احکامات جاری کئے کہ لاپتہ افراد کمیشن لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو مکمل سہولت فراہم کرے۔ کمیشن رپورٹ جمع کرائے پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ کرنے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے کیوں نہیں لکھا؟ریکارڈ سے معلوم ہے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعد کمیشن کی کارروائی بادی النظر میں رسمی ہے۔ ایک دہائی قبل تشکیل دئیے کمیشن نے جبری گمشدگی خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کو تجاویز کیوں نہیں دیں؟ پروڈکشن آرڈر پر عمل نہ ہونے کے بعد ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں کہ کبھی کمیشن نے کاروائی کا لکھا ہو۔ دو سال پہلے پروڈکشن آرڈر جاری ہوا کوئی وجہ نہیں کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا نہ لکھا جائے۔ عدالت آنکھیں بند نہیں کر سکتی پٹشنرز شہری ہیں کمیشن کی ڈیوٹی ہے مسنگ پرسنز کے اہل خانہ تک خود پہنچے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت چار جولائی تک ملتوی کردی۔
Load/Hide Comments



