کراچی (آن لائن) پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے کاروباری اتار چڑھاؤ کے بعد ملا جلا رجحان رہا،کے ایس ای100انڈیکس 42000پوائنٹس سے بڑھ کر42100پوائنٹس پر بند ہواتاہم مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے19ارب روپے سے زائد ڈوب گئے،کاروباری اتار چڑھاؤ کے باوجود47.78فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں۔اسٹاک ماہرین کے مطابق وفاقی بجٹ کے اعلان کے بعد میوچل فنڈز،سیمنٹ،اسٹیل،فرٹیلائزر اور انرجی سیکٹر میں فروخت کا حجم بڑھنے اور آئی ایم ایف کا بجٹ پر مثبت ردعمل سامنے نہ آنے کے باعث پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ کاروباری ہفتے کے پہلے دن مارکیٹ کریش کر گئی جس کی وجہ سے انڈیکس 1134.80پوائنٹس لوز کر گیا تاہم آرجی چیف کے دورہ چین میں ملٹری ایڈ کیساتھ2.5ارب ڈالر کے قرضے رول اوورکرنے پر آمادگی،ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو گری لسٹ سے نکالے جانے کی امید اور بڑے پلیئرز کی جانب سے نچلی قیمتوں پر حصص کی خریداری سے مارکیٹ میں 4دن رونما ہونیوالی تیزی سے انڈیکس نے 1260.83پوائنٹس ریکور کر لئے۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے کے ایس ای100انڈیکس میں 126.03پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے انڈیکس 42014.73پوائنٹس سے بڑھ کر42140.76پوائنٹس ہو گیا اسی طرح 36.25پوائنٹس کے اضافے سے کے ایس ای30انڈیکس 16064.58پوائنٹس سے بڑھ کر16100.83پوائنٹس ہو گیا جبکہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 28842.17پوائنٹس گھٹ کر 28767.12پوائنٹس پر آگیا۔کاروباری سرگرمیوں میں اتار چڑھاؤکے باعث مارکیٹ کے سرمائے میں 19ارب29کروڑ14لاکھ50ہزار472روپے کی کمی واقع ہوئی جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 70کھرب21ارب76کروڑ35لاکھ30ہزار903روپے سے گھٹ کر70کھرب2اب47کروڑ20لاکھ80ہزار431روپے رہ گیا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر انڈیکس 42420.64پوائنٹس کی بلند سطح کو چھو گیا تھا تاہم مندی کی لہر آنے سے انڈیکس 40657.88پوائنٹس کی پست سطح پر ٹریڈ ہوتا دیکھا گیا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے زیادہ سے زیادہ9ارب روپے مالیت کے28کروڑ29لاکھ31ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ کم سے کم3ارب روپے مالیت کے12کروڑ1لاکھ25ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے مجموعی طور پر 1672کمپنیو ں کا کاروبار ہوا جس میں سے799کمپنیوں حصص حصص کی قیمتوں میں اضافہ،751میں کمی اور122کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔کاروبار کے لحاظ سے ہم نیٹ ورک،سینر جیکو پاک،کے الیکٹرک لمیٹڈ یونٹی فوڈز لمیٹڈ،پاک ریفائنری،ٹی پی ایل پراپرٹیز،غنی گلوبل،میڈیا ٹائمزلمیٹڈ،سلک بینک لمیٹڈ،ٹیلی کارڈ لمیٹڈ،ورلڈ ٹیلی کام،بینک آف پنجاب،بلوچستان گلاس،سوئی نادرن گیس،آئل بوائے انرجی،میپل لیف،دیوان سیمنٹ،آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ،ڈی جی کے سیمنٹ اور پاک الیکٹرون سر فہرست رہے۔
Load/Hide Comments



