سندھ کوقحط سالی کی صورتحال کا سامنا، پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے مسئلہ کو وفاقی حکومت کے سامنے اٹھایا ہے،مراد علی شاہ

کراچی (آن لائن)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ اس سال پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جبکہ سندھ کوقحط سالی کی صورتحال کا سامنا ہے۔ خریف سیزن کے آغاز میں سندھ کے پانی کا حصہ 6.483 ایم اے ایف طے کیا گیا۔ یہ معاہد ہ پانی کی تقسیم کے معاہدے کے برخلاف ہے جو کہ 8.292 ایم اے ایف ہے۔بے وقت پانی کی فراہمی ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ سندھ میں کپاس کی کاشت اپریل میں شروع ہوتی ہے اور پنجاب میں مئی میں کی جاتی ہے۔ اپریل میں پنجاب کے مقابلہ میں ہمیں 8 فیصدپانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ اسوقت ہماری طلب زیادہ ہوتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس طرح مئی میں سندھ کو 55 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے جو کہ زراعت کے شعبہ کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ ہم نے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے مسئلہ کو وفاقی حکومت کے سامنے اٹھایا ہے۔ اس مسئلہ کوسیاسی رنگ دینے کی وجہ سے پورے ملک میں صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔ میں نے ذاتی طور پروزیراعظم پاکستان سے اس مسئلہ پر بات کی ہے کہ ارسا پانی کی غیر منصفا تقسیم کا مدار ہے۔سندھ حکومت بھر پور طریقہ سے اس کیس پرمسلسل کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔پانی کی بروقت اور مسلسل ترسیل 1991 کے معاہدے کے مطابق کی جائے۔سندھ حکومت اس بات پر مسلسل زور دیتی رہے گی-