کراچی (آن لائن)حکومت سندھ نے مالی سال2022-23کے لئے 16کھرب79ارب روپے سے زائد مالیت کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا،نئے مالی سال اخراجات کا تخمینہ 17کھرب13ارب سے زائد روپے لگایا گیا ہے جس کی وجہ سے بجٹ33ارب سے زائد روپے خسارے کا ہے، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے،بجٹ میں نئی بھرتیاں کرنے کا کوئی اعلان نہیں ہو سکا، نئے مالی سال کے بجٹ میں سروسزپرصوبائی سیلز ٹیکس 180 ارب روپے ہوگا، سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 332.165 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔تعلیم کے شعبے کے لیے 326.80ارب روپے رکھے گئے ہیں، سندھ کے 7 اضلاع میں یونیورسٹی یا کیمپس قائم کرنیکا بھی اعلان کیا گیا۔شعبہ صحت کیلئے مجموعی بجٹ کا 206.98 بلین روپے رکھا گیا ہے اس سال شعبہ صحت کا بجٹ موجودہ مالی سال 22-2021 میں مختص 22، 181 بلین روپے کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے، محکمہ داخلہ بشمول پولیس اور جیل خانہ جات کے لیے 124.873 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، پولیس کانسٹیبل کا گریڈ 5 سے اپ گریڈ کرتے ہوئے7 گریڈ کرنے اورگریڈ ایک سے 16 کے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 33 فیصد اضافہ اور گریڈ 17 سے اوپر کے سرکاری ملازمین کے لیے 30 فیصد کیساتھ ٹول مینوفیکچرنگ سروسز کو ایس ایس ٹی سے مستثنیٰ کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ آبپاشی کے بجٹ کو 21.231 ارب روپے سے بڑھا کر 24.091 ارب روپے کر دیا گیا ہے جبکہ نئے مالی سال کے دوران کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو 224.675 ارب روپے دیئے گئے ہیں،کراچی کی دو بڑی اسکیموں میں گجر، محمود آباد اور اورنگی نالہ کے متاثرین کی دوبارہ آباد کاری اورگریٹر کراچی بلک واٹر اسکیم کے فورہ کا کام بھی شامل ہیں،بجٹ تقریر شروع ہوتے ہی تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نے شور شرابہ اور نعرے بازی شروع کردی اور وزیراعلیٰ کا گھیراؤ کرلیا، جس پر وزیراعلی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسی شور شرابے کے دوران بجٹ تقریر جاری رکھی۔ منگل کو سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیرا علی سندھ سید مراد علی شاہ نے مالی سال کا بجٹ پیش کیا،مالی سال 2022-23ء کے بجٹ اجلاس سے قبل سندھ کابینہ کا اجلاس وزیر اعلی سندہ سید مراد علی شا ہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں صوبائی کابینہ نے نئے مالی سال کے بجٹ کی منطوری دی۔آئندہ مالی سال آمدنی کا تخمینہ16کھرب79ارب 73کروڑ48لاکھ روپے لگایا گیا ہے بجٹ میں جاری آمدنی وصولی کا تخمینہ 10کھرب55ارب53کروڑ45لاکھ روپے لگایا گیا جبکہ رواں سال نظر ثانی شدہ تخمینہ 9کھرب22ارب21کروڑ39لاکھ روپے تھا۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں جاری آمدنی اخراجات کا تخمینہ 11کھرب99ارب44کروڑ54لاکھ روپے لگایا گیا ہے جبکہ رواں سال کے نظر ثانی شدہ تخمینے کی مالیت10کھرب37ارب19کروڑ7لاکھ روپے ہے جاری سرمائے سے وصولی کا تخمینہ51ارب13کروڑ28لاکھ روپے جبکہ جاری سرمائے سے اخراجات کا تخمینہ 54ارب48کروڑ7لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔سندھ حکومت کو فارن پروجیکٹ اسسٹنس،وفاقی گرانٹ اور غیر ملکی امداد سے 1کھرب5ارب56کروڑ75لاکھ روپے وصولی تخمینہ لگایا گیاجبکہ صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام،فارن پروجیکٹ اسسٹنس وفاقی گرانٹ اور ضلعی اے ڈی پی سے اخراجات کا تخمینہ4کھرب59ارب65کروڑ77لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کیلئے صوبائی حکومت کی مجموعی و ارب روپے کے اخراجات کے مقابلے میں 1,679,734.8روپے ہوں گی جو 33.848 ارب روپے کے خسارے کو ظاہر کرتا ہے۔ مراد علی شاہ نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان کو بتایا کہ مجموعی طور پر محصولات کی وصولیاں 1,679,734.8 ارب روپے ہوں گی جس میں 1.055 ارب روپے وفاقی منتقلی، 374.5 ارب روپے کی صوبائی وصولیاں (167.5 ارب صوبائی ٹیکس وصولیاں جن میں سروسز پر جی ایس ٹی، 180 ارب سروسز پر صوبائی سیلز ٹیکس اور 27,000 ملین صوبائی نان ٹیکس وصولی)،51,132.8 ملین روپے موجودہ کیپٹل وصولی، 51,132.8 ملین روپے کی کرنٹ کیپٹل وصولی، 105,567.5 ملین روپے دیگر ٹرانسفرز جیسے کہ غیر ملکی پراجیکٹ امداد، وفاقی گرانٹس اور غیر ملکی گرانٹس اور 20,000 ملین روپے کیش بیلنس اور صوبے کے پبلک اکاؤنٹس شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی ٹیکس جمع کرنے والے ادارے سندھ ریونیو بورڈ 180 ارب روپے، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن 1.20 ارب روپے اور بورڈ آف ریونیو 30 ارب روپے وصولی کے اہداف حاصل کریں گے۔بجٹ اخراجات پروزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کیلئے موجودہ ریونیو اخراجات 1,199,445.4 ملین روپے ہوں گے جس میں موجودہ سرمائے کے اخراجات 54.48 ارب روپے، ترقیاتی پورٹ فولیو 459.65 ارب روپے ہوں گے جس میں 332.165 ارب روپے صوبائی ADP، 30 ارب روپے ضلع ADP، اور 91.467 ارب فارن اسسٹنس پروجیکٹ (FAP) اور 6.02 ارب دیگر وفاقی گرانٹس شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق صوبائی حکومت نے دوران مالی سال کے 11 ماہ (جولائی تا مئی) میں 732 ارب روپے کے نتیجے میں 716 ارب روپے وصول کیے ہیں جوکہ 16 ارب روپے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
Load/Hide Comments



