لاہور (آن لائن)پنجاب کاآئندہ مالی سال کابجٹ آج (پیر) کے روز پیش کیا جائے گا۔ پنجاب کے بجٹ کو پنجاب اسمبلی کے ایوان میں پیش کرنے سے قبل وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں منظوری لی جائے گی۔پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حجم27کھرب سے زائد ہوگا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن میں وفاق کی طرز پر بالترتیب15 فیصد اور 5 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔آئندہ مالی سال میں این ایف سی کے تحت قابل تقسیم محاصل کی مد میں پنجاب کو 20کھرب29 ارب 32کروڑ روپے ملنے کا امکان ہے۔ پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے 13جون کو بلائے گئے اجلاس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق اجلاس میں آئندہ مالی سال 2022-23 کا بجٹ، 2021-22کا ضمنی بجٹ اور فنانس بل پیش کیا جائے گا۔پنجا ب سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ2012ء کے سیکنڈشیڈول میں ترمیم بھی پیش کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد اوراپوزیشن اتحاد نے پنجاب اسمبلی کے بجٹ کے موقع پر اپنی اپنی حکمت عملی مرتب کر لی ہے، تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) اپوزیشن بنچوں پر بیٹھیں گے۔ اپوزیشن کی جانب سے اجلاس میں شدید احتجاج کئے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق صوبے بھر میں لیپ ٹاپ اسکیم دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سستا آٹا،روٹی، گھی، چینی اسکیم کے فنڈ بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے آٹے، گھی اور چینی پر 200 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، غیر ترقیاتی اور جاری اخراجات کے لیے 1700 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔محکمہ خزانہ پنجاب کے ذرائع نے بتایا ہے کہ رقیاتی بجٹ کے لیے 660 ارب کا فنڈ مختص کرنے اور محصولات کا ہدف 400 ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ذرائع محکمہخزانہ پنجاب کے مطابق پنجاب حکومت وفاق سے واجب الادا رقم کی مد میں 120 ارب روپے کی رقم وصول کرے گی، تعلیم کے لیے 415 ارب کروڑ کے فنڈز مختص کرنے کی سفارشات ہیں۔محکمہ خزانہ پنجاب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے میں صحت کے لیے 300 ارب روپے کے فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، پنجاب پولیس کے لیے 150 ارب روپے کا فنڈ مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ذرائع محکمہ خزانہ پنجاب نے بتایا ہے کہ عوامی ریلیف پیکیج کے لیے صوبے میں ہنگامی بنیادوں پر 1 ارب 31 کروڑ روپے کا فنڈ مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔محکمہ خزانہ پنجاب کے ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ شعبہ? زراعت کے لیے 38 ارب روپے کا نان ڈیولپمنٹ فنڈ مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ذرائع محکمہ? خزانہ پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ خواتین کی ترقی کے لیے محکمہ ویمن ڈیولپمنٹ کو 37 کروڑ روپے کا بجٹ دینے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔
Load/Hide Comments



