مالی سال 2022-23 کیلئے 4ہزار ارب سے زائد خسارے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش

مالی سال 2022-23 کیلئے 4ہزار ارب سے زائد خسارے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش
بجٹ کا کل حجم 9 ہزار502 ارب روپے،دفاع کیلئے1523ارب مختص، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 اور پنشن میں 5 فیصد اضافہ
قرض اور سود کی ادائیگی کیلئے3 ہزار 950 ارب مختص اور ٹیکس وصولیوں کا ہدف 7ہزار 255ارب مقرر
رواں مالی سال ایف بی آر کا ریونیو 6 ہزار ارب روپے، ٹیکس وصولیوں میں صوبوں کا حصہ 3512 ارب روپے ہوگا، رواں سال وفاق کے زیر انتظام ٹیکس وصولی کا حجم 3803ارب روپے اور وفاقی حکومت کا نان ٹیکس ریونیو1315 ارب روپے رکھا جائے گا
حکومت کے مجموعی اخراجات 9118 ارب روپے ہوں گے۔ پی ایس ڈی پی منصوبوں پر 550 ارب روپے خرچ ہوں گے، دفاع پر 1523ارب روپے خرچ ہوں گے، وفاقی حکومت کے اخراجات کیلئے 530 ارب روپے مختص کئے جبکہ پنشن پر 525 ارب روپے خرچ ہوں گے۔، سبسڈی پر1515 ارب، ایڈ اینڈ گرانٹس کی مد میں 1090ارب روپے خرچ کئے جا چکے
آئندہ مالی سال ایف بی ا?ر ریونیو کا ہدف 7004 ارب روپے ہے، مجموعی محصولات کا حجم 4904 ارب روپے ہوگا، نئے مالی سال نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 2 ہزار ارب روپے رکھا گیا ہے