سالانہ ترقیاتی بجٹ میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور مواصلات کے 64 جاری، 46 نئے اور بی او ٹی کے 5 منصوبوں اور سکیموں کی تعمیر کیلئے مجموعی طور پر 118583.402 ملین روپے مختص کردیئے

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی حکومت نے مالی سال23-2022 کے سالانہ ترقیاتی بجٹ میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اور مواصلات کے 64 جاری، 46 نئے اور بی او ٹی کے 5 منصوبوں اور سکیموں کی تعمیر کیلئے مجموعی طور پر 118583.402 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔بجٹ دستاویزات کیمطابق حکومت نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ملک بھر میں جاری 64 منصوبوں کیلئے 86288.281 ملین روپے رکھے ہیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے 64 جاری منصوبوں میں سے کاریک کوریڈور ڈویلپمنٹ انویسٹمنٹ پروگرام ٹرینچ ون کے ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے تعمیر کئے جانے والے 128کلومیٹر کے منصوبے پشاور?ڈیرہ آدم خیل کی تعمیر کیلئے 4500 ملین روپے، کاریک راہداری این 55 کے شکارپور?راجن پور کے اضافی کیرج وے کی تعمیر کیلئے 4500 ملین روپے، ایم 8 ہوشاب?آواران?خضدار کے دوسرے مرحلہ کے 158 کلومیٹر حصے کی تعمیر کیلئے 3000 ملین روپے، ہوشاب?آواران حصہ کے 146 کلومیٹر کی تعمیر کیلئے 4000 ملین روپے، این 50 یارک?ساگو?ڑوب بشمول 210 کلومیٹر ڑوب بائی پاس کو دورویہ کرنے اور موجودہ منصوبے کیلئے بہتری کیلئے 5000 ملین روپے، این 25 ہائی وے کے خضدار? کچلاک حصے کو دورویہ کرنے کے منصوبے کی تعمیر کیلئے 6000 ملین روپے مختص کئے ہیں۔ اسی طرح دیگر جاری منصوبوں میں درہ خیبر اقتصادی راہداری منصوبہ کی تعمیر کیلئے 2400 ملین روپے، جگلوٹ?سکردو ایس ون 157 کلومیٹر کے نظرثانی شدہ منصوبے کی اپ گریڈیشن اور بہتری کیلئے 2000 ملین روپے، جھل?جھا?? بیلہ 80 کلومیٹر منصوبے کی تعمیر کیلئے 1500 ملین روپے، چترال?بونی?مستوج?شندور (سی پیک) منصوبے کی بہتری اور اسے چوڑا کرنے کیلئے 1200 ملین روپے، این 45 کو چوڑا کرنے اور بہتری کیلئے 1300 ملین روپے، چترال? گرم چشمہ روڈ کے 82.5 کلومیٹر منصوبے کی تعمیر کیلئے 1000 ملین روپے، گلگت?شندور 215 کلومیٹر روڈ کی تعمیر کیلئے 1310 ملین روپے، راجن پور?ڈی جی خان چار لائن ہائی وے کی تعمیر کیلئے 1220 ملین روپے، طورخمجلال آباد روڈ منصوبے کے ساتھ اضافی کیرج وے کی تعمیر کیلئے 1000 ملین روپے، چترال? ایون?بمبوریٹ 48 کلومیٹر منصوبے کی بہتری کیلئے 1000 ملین روپے، بسمیہ? خضدار 106 کلومیٹر دو لائن ہائی وے کی تعمیر کیلئے 1000 ملین روپے، اٹھمقام?شارداکل?تا?بٹ روڈ کی تعمیر کیلئے 1150 ملین روپے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت آئندہ بجٹ میں حکومت نے وزارت مواصلات اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے 46 نئے منصوبوں کیلئے مجموعی طور پر 24045.121 ملین روپے مختص کئے ہیں۔ جاری منصوبوں میں سب سے زیادہ ڈیرہ اسماعیل خان?لکی مروت?ٹانک پیکج کی تعمیر کیلئے 5000 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ نئی سکیموں میں حب بائی پاس کا چار لائن پر مشتمل 16 کلومیٹر حصہ کی تعمیر، لڈیاوالا انٹرچینج ایم تھری کی فزیبلٹی سٹڈی، دریائے چناب پر بین الاضلاعی جلال پور پیروالا پل کی تعمیر، شاہدرہ ریلوے کالونی فلائی اوور کی تعمیر، دریائے چناب پر ہیڈوالا کے مقام پر رابطہ سٹرکی تعمیر، بابوسر ٹنل کی رابطہ سڑک کی تعمیر، بشام، خوازم خیلہ ایکسپرس وے کے 64 کلومیٹر منصوبے کی فزیبلٹی، موٹروے ایم 5 پر بھونگ انٹرچینج کی تعمیر، فاروق آباد چوہڑ کانہ انٹرچینج کی تعمیر، این 5 اور این 65 سکھر جنکشن پر فلائی اوور کی تعمیر، عبدالحکیم موٹروے ایم 3 کے 20 کلومیٹر شیخوپورہ حصے کی تعمیر، ہزارہ موٹروے کے ایبٹ آباد شیروان حصے پر انٹرچینج کی تعمیر، کہوٹہ روڈ راولپنڈی کو دورویہ کرنے، تاندلیانوالا کے مقام پر انٹرچینج کی تعمیر، شاردا نوری ٹاپ جھل کھڈ روڈ کی تعمیر، ڈیرہ اسماعیل خان? لکی مروت? ٹانک حصے کی تعمیر کے علاوہ متعدد منصوبوں کی فزیبلٹی سٹڈی اور زمین کی خریداری جیسے منصوبے شامل کئے گئے ہیں۔ پی ایس ڈی پی میں حکومت نے بلٹ آپریٹ ٹرانسفر کے تحت 5 منصوبوں کیلئے بھی فنڈز مختص کئے ہیں جس پر مجموعی طور پر8070 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جس میں سے کھاریاں? راولپنڈی موٹروے 115 کلومیٹر منصوبے کیلئے 3500 ملین روپے، حیدرآباد?سکھر موٹروے ایم 8 کیلئے 4000 ملین روپے، سیالکوٹ(سمبڑیال)? کھاریاں موٹروے 69 کلومیٹر کیلئے 170 ملین روپے، لیاری فریٹ کوریڈور کیلئے 300 ملین روپے اور شاہدرہ فلائی اوور کی تعمیر کیلئے 100 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔