پاکستان اور جرمن کا تعلقات کے فروغ اورتجارت بڑھانے کے عزم کا اعادہ

اسلام آباد (آن لائن)پاکستان اور جرمنی نے تعلقات کے فروغ اورتجارت بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی ترقی کے لئے قیام امن ناگزیر ہے،دونوں ممالک نے مقبوضہ کشمیر کے تنازع کو حل کرنے اور افغانستان کے اثاثے بحال کرنے پر زور دیا ہے،دونوں ممالک نے خطے میں امن و استحکا م کیلئے ملکر کام کرنے کیلئے عزم کو دوہرایا ہے اور بھارت میں بڑھتے اسلامو فوبیا واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ترجیح دنیا کے ساتھ اچھے روابط ہیں، جنوبی ایشیا میں مستحکم امن کا براہ راست تعلق اقوام متحدہ کی قرارداد اور شمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے تنازع کے حل سے مشروط ہے، افغان حکومت دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اقدامات کریگی، دونوں ممالک نے،روسی جارحیت یورپ سمیت پوری دنیا کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین جنگ کے دنیا پر مضر اثرات ہوئے۔ ان خیالا ت کااظہار وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور جرمن ہم منصب نے منگل کے روز مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ جرمن وزیر خارجہ کی پاکستان آمد پر شکر گزار ہوں، پاکستان اور جرمنی کا دیرینہ تعلق باہمی تعاون پر مشتمل ہے، حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ روابط رہے ہیں۔ گزشتہ سال جرمنی کے ساتھ پاکستان کے تعلق کو 70 سال مکمل ہوگئے، جرمن وزیر خارجہ سے ملاقات میں ہم نے تجارت اور سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، دفاع اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی روابط سمیت مختلف امور پر بات چیت کی،انہوں نے کہا کہ ہم جرمنی میں موجود سینکڑوں پاکستانیوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد میونخ میں کونسلٹ جنرل آف پاکستان کے افتتاح کا ارادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان اور ان کے عوام کو درپیش انسانی بحران سے متعلق بھی تفصیلی بات چیت کی، پاکستان کی پالسیی اس حوالے سے واضح ہے، ہم ایک پرامن اور خوشحال افغانستان کے حامی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ افغان حاکم کی جانب سے بھی خواتین کے حقوق اور دہشتگردی کے مسائل سے متعلق عالمی برادری کی امیدوں کی پاسداری کی جائے گی، ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے اثاثے بحال کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔افغان حکومت دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اقدامات کریگی۔انہوں نے کہا کہ افغان عوام کو بھوک اور افلاس کا سامنا ہے افغانستان کو عالمی برادری کی توجہ کی ضرورت ہے۔پاکستان نے افغانستان سے مندوبین کے انخلاء میں عالمی برادری کی مد د کی، افغان حکومت کو عالمی برادری کی توقعات پر پورا ترنا ہو گا، پاکستان میں دہشگردی کیلئے افغان سرزمین استعمال ہو تی رہے، پاکستان اور میں خود دہشتگردی کا شکار رہا ہوں، پرامن افغانستان پاکستان اور عالمی برادری کیلئے مفاد میں ہے۔ دنیا سے رابطے نہیں بڑھائیں گے تو پاکستان کو موقف پیش نہیں کر سکتے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ جرمین وزیر خارجہ کے ساتھ یوکرین کا معاملہ بھی جرمن وزیر خارجہ کے ساتھ زیر بحث آیا۔ پاکستان یوکرین کے عوام کی خیر وعافیت سے متعلق فکرمند ہے، یوکرینی عوام کے لیے پاکستان نے 4 امدادی جہاز بھی بھیجے۔انہوں نے کہا کہ روس یوکرین تنازع شروع ہونے کے ساتھ ہی پاکستان روس اور یوکرین قیادت سمیت یورپی یونین اور عالمی برادری سے مسلسل رابطے میں ہے اور مذاکرات سے پرامن حل پر زور دے رہا ہے۔ پاکستان یو کرین معاملہ مزاکرات کے ذریعے حل کر نے کا خواہاں ہے، ہمیں یوکرین میں شہری اموات پر تشویش ہے ہم یوکرین جنگ کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں۔ پاکستان اور جرمنی کے درمیان تعلقات کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان نے جرمنی کے ساتھ 25ملین ڈالر کی تجارت کی پاکستان جرمنی کے سات متعدد منصوبوں میں معاونت کر رہا ہے پاکستان اور جرمنی دونوں تعلقات کوفروغ دینے کیلئے پر عزم ہیں، جرمنی پاکستان میں براہ راست سرمایہ کر نیوالا ساتواں ملک ہے –