ملکی مسا ئل کے حل کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز سے گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہونگے،شہباز شریف

لاہور(آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوگا، تمام اسٹیک ہ ولڈرز کے ساتھ گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے،قومیں محنت، دیانت، ایمانداری اور ٹیکنالوجی سے آگے بڑھتی ہیں۔اتوار کے روز انڈس ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ میرے لیے آج عزت اور فخر کا موقع ہے، ایسے ہسپتال کے افتتاح کا موقع ملا جسے ایسے شخص نے بنایا جو خدا ترس ہیں، جو لوگ قرآن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں وہی دین اور دنیا کما رہے ہیں، 2013 میں ان لوگوں سے ملاقات ہوئی اور انہیں خیراتی ہسپتال بنانے کا کہا، ہماری حکومت اس 60 بیڈ کے ہسپتال کو چلانے سے قاصر تھی، میں نے ان سے کہا یہ اسپتال سیاسی رنگ نہ اختیار کر جائے، وہ اسپتال ان کے حوالے کیا تو انہوں نے شاندار انداز میں چلایا، اس اسپتال میں 120 بیڈز کی توسیع کی گئی، وہ پورے علاقے کا مصروف ترین اسپتال ہوگیا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پتھروں سے قومیں ترقی نہیں کرتیں، قومیں علم اور جدت سے بنتی ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف کا میٹرو بس میں ٹکٹ کا نرخ آدھے کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اگلے چند سالوں میں راکٹ کی طرح آگے بڑھے گا،اس کے لیے ہم سب کو محنت کرنی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں معیشت کی حالت خراب ہے اور ہمسایہ ملک بھارت سے ہمارے تعلقاتکشیدہ ہیں، مسائل کے حل کیلئے گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوگا، تمام اسٹیک ہولڈرز سے گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، ہمیں پسند ناپسند سے بالا تر ہونا ہوگا، ہمیں اگر آگے جانا ہے تو اپنی انا سے بالا تر ہوکرسوچنا ہوگا۔شہبازشریف کا کہنا تھا کہ دل پر پتھر رکھ کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائیں، لیکن ہم 7کروڑ عوام کو 2 ہزار روپے دیں گے، صحت اور تعلیم پر کمپرومائز نہیں ہونا چاہیے، لوڈشیڈنگ ہورہی ہے میں جانتا ہوں، لیکن مجھے آئے ہوئے ڈیڑھ ماہ کا عرصہ ہوا ہے، ساڑھے 3 سالوں میں جو ہوا اس کا حساب کون دے گا، مجھ سے ڈیڑھ ماہ کا حساب مانگا جارہا ہے، میں نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ 2 گھنٹے تک محدود کرنے کا کہہ دیا ہے۔ غریبوں کیلئے ایسے منصوبے شروع کرنیوالے دین و دنیا دونوں کما رہے ہیں، جو لوگ قرآن کی تعلیمات پرعمل پیرا ہیں وہی دین اور دنیا کما رہے ہیں۔ کیا ہم نے 72 سال بعد بھی سبق نہیں سیکھنا، ملکی خوشحالی کیلئے اپنی پسند نہ پسند سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہو گا، پوری کوشش ہوگی غریب پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جائے۔