انقرہ(آن لائن) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان مختلف شعبوں میں ترکی کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے، ترک سرمایہ کار پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھیں انقرہ میں پاک ترک بزنس فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بزنس فورم کی تقریب سے خطاب میرے لیے اعزاز کی بات ہے، ہم یہاں صدر رجب طیب اردوان، ان کی ٹیم، اپنے ترک بھائی بہنوں اور بزنس کمیونٹی کے لیے یہ پیغام لے کر آئے ہیں کہ ہم ایک ساتھ کام کرنے کے خواہش مند ہیں.
انہوں نے کہا کہ کورونا اور روس‘ یوکرین جنگ کے سبب دنیا کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، گزشتہ رات ترک تاجروں سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد محض دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو مضبوط کرنا نہیں بلکہ اس تعلق کو تجارت، سرمایہ کاری، ثقافت اور عوام رابطے کے فروغ کے لیے استعمال کرنا ہے.
وزیراعظم نے کہا کہ ہم ایک زبان نہیں بولتے لیکن ہمارا تعلق ایک مذہب اور ثقافت سے ہے، ہماری یکساں تاریخ ہے، مشکل ترین وقتوں میں ہم نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا انہوں نے ترک بزنس کمیونٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے آپ کے بھرپور تعاون کا خیر مقدم کرتے ہیں، پاکستان میں آپ کے انسانی فلاح و بہبود کے منصوبوں سے سب واقف ہیں، سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد صدر رجب طیب اردوان اور ترک خاتون اول کے تعاون سے ہم سب واقف ہیں.انہوں نے کہا کہ ترک تاجروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتا ہوں، کاروباری میدان میں آپ کی غیر معمولی کامیابیاں سب کے لیے روشن مثال ہیں، ہم سنجیدگی سے اس عمل میں آپ کے ساتھ شرکت کے خواہش مند ہیں شہباز شریف نے کہا کہ میں آپ کو نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی دعوت دیتا ہوں بلکہ ہم مل کر دیگر ممالک میں بھی تجارت کر سکتے ہیں.انہوں نے کہا کہ ترکی کی آٹو موبائل انڈسٹری غیر معمولی ہے جو یورپ میں بھی برآمدات کرتی ہے، پاکستان ترکی کی آٹو موبائل انڈسٹری سے بھی استفادہ کرنا چاہتا ہے اور ترکی سے سیکھنا چاہتے ہیں کہ کم قیمت میں کاروبار کیسے فروغ دیا جائے. وزیر اعظم نے کہا کہ اس میں پاکستان اپنی سستی لیبر فراہم کرکے معاونت کر سکتا ہے، اس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا، پاکستان میں توانائی کے شعبے میں ترک سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اسی طرح ٹیکسٹائل انڈسٹری میں بھی بے پناہ مواقع موجود ہیں، ترکی کی طرح پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری بھی بہت مضبوط ہے، دونوں ممالک کی تعاون سے اس میں موجود خلا کو دور کیا جاسکتا ہے.انہوں نے کہا کہ ترکی کے پاس انفرااسٹرکچر، ڈیمز اور ہائیڈل پاور انرجی میں غیر معمولی صلاحیت ہے جس سے پاکستان استفادہ کر سکتا ہے، اس کے ذریعیترکی کو منافع اور پاکستان کو سستی بجلی مل سکتی ہے، یہ ایک وسیع نظریہ ہے جس کے لیے ہمیں باہمی گفتگو کے ذریعے حکمت عملی طے کرنا ہوگی. شہباز شریف نے کہا کہ سولر انرجی اور ونڈ پاور کے فروغ کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک تیل اور گیس کی بھاری قیمتیں ادا نہیں کرسکتا، اس کے لیے ہمیں ہائیڈل پاور اور قابل تجدید توانائی کی جانب جانا ہوگا انہوں نے کہا کہ میں اپنی ٹیم کے ساتھ آج یہ پیغام دینے آیا ہوں کہ ہم پاکستان میں آپ کی سرمایہ کاری کا کھلے دل سے استقبال کریں گے جس سے تجارت کو فروغ ملے گا.انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی الزام تراشی میں نہیں پڑنا چاہتا، ضمانت دیتا ہوں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن سہولیات دیں گے، ترک سرمایہ کاروں کا پاکستان میں خیر مقدم کریں گے وزیر اعظم نے کہا کہ ترک سرمایہ کاروں کا ریڈ کارپٹ استقبال کریں گے، ترک سرمایہ کار پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھیں، ترکی کا دشمن پاکستان کا دشمن ہوگا-
Load/Hide Comments



