اسلام آباد (آن لائن) اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان ایک انتہائی محبت کرنے والے لوگوں کا ملک ہے۔ بیرون ملک سے جو بھی آدمی پاکستان آتا ہے وہ پاکستان کی ثقافت، کلچر اور مہمان نوازی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامک یونیورسٹی کے زیر اہتمام مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا پاکستان ایک انتہائی محبت کرنے والے لوگوں کا ملک ہے۔ بیرون ملک سے جو بھی آدمی پاکستان آتا ہے وہ پاکستان کی ثقافت، کلچر اور مہمان نوازی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پاکستانی قوم انتہائی ملنسار اور خوش اخلاق ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان میں مختلف مذاہب اور نظریات سے تعلق رکھنے والے لوگ باہمی احترام اور ہم آہنگی کے ساتھ مل جل کر پرامن انداز میں رہ رہے ہیں۔ اس کی ایک زندہ مثال ابھی ہم میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا ہماری اس تقریب کی میزبان سابق ممبر قومی اسمبلی محترمہ آسیہ ناصر صاحبہ کا تعلق پاکستان کی معروف مذہبی سیاسی جماعت یعنی جمعیت علماء اسلام سے ہے۔ محترمہ آسیہ ناصر صاحبہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیروکار ہیں۔۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مثبت سوچ رکھنے والے افراد اپنے اپنے مذاہب سے تعلق رکھ کر بھی باہم مل جل کر کام کر سکتے ہیں، انہوں نے کہا پاکستان کے جھنڈے کا رنگ سبز اور سفید ہے۔ سبز رنگ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان کی غالب اکثریت اسلام سے تعلق رکھتی ہے۔ پاکستانی جھنڈمن اور بھائی چارے کی علامت ہے۔ سفید رنگ پاکستان میں بسنے والے اقلیتی طبقات کے وجود کے اظہار کو ظاہر کرتا ہے۔ میں آپ کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا تحریک پاکستان کے دوران بر صغیر میں بسنے والی مسیحی برادری نے تحریک پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔ مثال کے طور پر پنجاب کے مسیحی رکن اسمبلی نے قائد اعظم محمد علی جناح کے کہنے پر پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اگر اس وقت وہ خدانخواستہ بھارت کے حق میں ووٹ دے دیتے تو پنجاب کے حوالے سے مسلم لیگ مشکل کا شکار ہو سکتی تھی۔ پاکستانی حکومت اور پاکستانی عوام اس تاریخی تعاون کی وجہ سے مسیحی برادری کو عزت کی نگاہ دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا دنیا میں جتنی بھی اقوام نے ترقی کی ہے ان سب نے جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل کیا ہے۔ وہاں شخصی اور مذہبی طور پر مکمل آزادیاں دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا مذہبی آزادی اور شخصی آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اگر بنیادی انسانی حقوق اور آزادیاں سلب کر لی جائیں تو عوام بے چین ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا ماحول میں گھٹن محسوس ہوتی ہے اور ملکی ترقی نہ صرف رْک جاتی ہے بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری بھی ختم ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے آئین کے خالق جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کو آئینی تحفظ دیا ہے۔ پاکستانی آئین پاکستان کی ترقی،خوشحالی، امن اور اقلیتوں کے حقوق کا محافظ ہے۔ انہوں نے کہا ہم نے مل جل کر پاکستان کو ترقی دینی ہے۔ ہمیں پاکستان کے ماحول کو بہتر سے بہتر کرتے ہوے امن اور سلامتی کا گہوارہ بنانا ہے، انہوں نے کہا مجھے امید ہے کہ FORB اور ادارہ تحقیقات اسلامی ملک میں امن، سکون اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم عمل رہیں گے۔
Load/Hide Comments



