اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے جلاؤگھیرا ؤ،توڑ پھوڑ اورریڈ زون میں داخلے کے مسئلے پر سوالات اٹھادئیے، آئی جی پولیس، چیف کمشنر اسلام آباد ڈی جی آئی بی اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا گیا ۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست کی 26 مئی کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔ 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس جسٹس عمر عطاء بندیال نے تحریر کیا۔ تحریری فیصلے میں عدالت عظمیٰ کی طرف سے تحریک انصاف کی طرف سے احتجاج ختم کرنے جبکہ حکومت کی طرف بند کئے گئے راستے کھولنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست نمٹاتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے پی ٹی آئی کی طرف سے عدالتی احکامات کے برعکس جلاو گھیراؤ توڑ پھوڑ اور ریڈ زون میں داخلے کے عمل پر سات مختلف سوالات اٹھا ئے ہیں۔ عدالت عظمی نے آئی جی پولیس، چیف کمشنر اسلام آباد ڈی جی آئی بی اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ایک ہفتے میں جواب طلب کیا ہے۔عدالت عظمیٰ کی طرف سے تحقیقاتی اداروں سے پوچھا گیا ہے کہ عمران خان نے پارٹی ورکرز کو کس وقت ڈ ی چوک جانے کی ہدایت کی؟پی ٹی آئی کارکنان ڈی چوک میں لگی رکاوٹوں سے آگے کب نکلے؟کیا ڈی چوک ریڈ زون میں داخل ہونے والے ہجوم کی نگرانی کی جا رہی تھی؟کیا حکومت کی جانب سے دی گئی یقین دہائی کی خلاف ورزی کی گئی؟ کتنے مظاہرین ریڈزون میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے؟ریڈ زون کی سکیورٹی کے انتظامات کیا تھے؟ایگزیکٹو حکام کی جانب سے سکیورٹی انتظامات میں کیا نرمی کی گئی؟کیا سیکورٹی بیریئر کو توڑا گیا؟کیا مظاہرین یا پارٹی ورکر جی نائن اور ایچ نائن گراونڈ میں گئے؟عدالت نے زخمی، گرفتار اور اسپتال میں داخل ہونے والے مظاہرین کی تفصیلات طلب کرتے ہو ئے قرار دیا ہے کہ تمام ثبوتوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائیگا کہ عدالتی حکم کی عدم عدولی ہوئی یا نہیں۔جبکہ جسٹس یحیی افریدی نے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ عمران خان کے بیان کی ویڈیو سپریم کورٹ میں چلائی گئی،عمران خان کے خلاف کاروائی کیلئے عدالت کے پاس مواد موجود ہے،میری رائے کے مطابق عمران خان نے عدالتی احکامات کی حکم عدولی کی،عدالت کے پاس عمران خان کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے کافی مواد موجود ہے۔ اختلافی نوٹ میں جسٹس یحیی افریدی نے عمران خان کو نوٹس جاری کرنے کی سفارش کر تے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان سے پوچھا جائے کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
Load/Hide Comments



