اسلام آباد(آن لائن)وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ نیب کے کیسز میں 15 سے 20 بار پیش ہو چکا ہوں کیس کے ملزمان کراچی سے آتے ہیں اور حاضری لگا کر اگلی تاریخ دے دی جاتی ہے نیب کے کیس میں کچھ بھی نہیں ہے ایک دن کے لیے بھی پلانٹ بند نہیں ہوا،بجلی بن رہی ہے پیشی پر جتنا خرچہ ہوتا ہے حساب لگا لیں، کل خرچہ سب کا کتنا بنتا ہے،نیب کے حوالے سے ترامیم کر دی گئی ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا انھوں نے یہ بھی کہا کہ بدنیتی پر مبنی یہ کیسز ہیں نیب کے افسران خود اس کیس میں ملوث ہیں اب نئی نیب ترامیم پر نیب افسر کو بھی پانچ سال سزا ہو سکتی ہیہر ایک کا جمہوری حق ہے احتجاج کرنا مگر قانون کے دائرے میں رہ کر جلاو گھیراؤ کرنے کا کسی کو اختیار نہیں کراچی میں بھی احتجاج ہوتے ہیں پرامن احتجاج کیا جا سکتا ہیبلاول بھٹو زرداری نے کراچی سے اسلام آباد تک پرامن مارچ کیا عمران خان اور زرداری صاحب کی لیک آڈیو کو درست سمجھتا ہوں نہ عمران خان اور نہ زرداری صاحب نے آڈیو کی تردید کی سنا ہے شاہ محمود قریشی نے تردید کی ہیعمران خان کلمہ پڑھ کر کہہ دیں کہ میں نے ملک ریاض سے رابطہ نہیں کیاتیسرا بندا شاہ محمود اس وقت موقع پر تھا جو ترید کر رہاعمران خان ہر تقریر سے پہلے کلمہ پڑھتا ہے تو اب بھی کلمہ پڑھ کر تردید کریاسلامی ٹچ سے ویسے بھی یہ تقریر میں دیتے ہیں صدر مملکت کا عہدہ قابل احترام ہیبل جوائنٹ سیشن میں لائے گئیاب صدر مملکت اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر رہئے ہیں نوری آباد کیس میں کسی ایک افسر نے ایک روپے کی کرپشن نہیں ہوئی نیب قوانین میں ترامیم پی ٹی آئی نے کیے جس سے انتقامی مقدمے بن سکت نیب کا طریقہ کار یہ تھا کہ دس دس سال کیس چلتا تھا نیب افسران اب غلط کیس بنانے پر پانچ سال کی سزا بھگتے گئے ڈاکٹر عارف علوی سے کہوں گا کہ پی ٹی آئی ورکر نہ بنیڈاکٹر عارف علوی کا رویہ کسی دور میں جمہوری بھی رہاصدر پاپند ہے آئین کے مطابق کہ وزیراعظم کی تجویز پر عمل کریصدر اگر دس دن بعد وزیراعظم کی تجویز نہیں مانتا تھا آئین کے مطابق اس تجویز پر عملدرآمد شروع ہو جاتا ہے –
Load/Hide Comments



