صدر عارف علوی نے قومی احتساب بیورو ترمیمی بل اور الیکشن ترمیمی بل 2022پر آئینی اور قانونی مشاورت شروع کر دی

اسلام آباد (ان لائن) پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور ہونے والے قومی احتساب بیورو ترمیمی بل اور الیکشن ترمیمی بل 2022 ایوان صدر کو موصول ہوگئے ہیں اور صدر عارف علوی نے ان بلز پر فوری دستخط کی بجائے اس پر آئینی و قانونی ماہرین سے مشاورت شروع کردی ہے اور امکان ہے کہ وہ یہ دونوں بلز اپنے اعتراض کے ساتھ پارلیمنٹ کو واپس بھجوا دینگے۔ ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کے حالیہ اجلاسوں میں نیب ترمیمی بل کے تحت احتساب بیورو کے اختیارات کم کیے گئے ہیں جبکہ الیکشن ترمیمی بل کے تحت سمندر پار پاکستانیوں کا ووٹ کا حق ختم کیا گیاہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال نہ کرنے سے متعلق بھی ترمیم بل میں شامل کی گئی ہے ذرائع کا کہناہے کہ صدر عارف علوی کہ طرف سے دونوں بلز پر اعتراض کا امکان ہے،صدر نے دونوں بلز کی منظوری سے قبل آئینی وقانونی ماہرین سے مشاورت شروع کردی ہے اور اگر صدر نے دونوں بلز واپس بھجوا دیئے تو حکومت مشترکہ اجلاس سے منظور کروائے گی مشترکہ اجلاس سات جون کو بلایا جا چکا ہے مشترکہ اجلاس سے منظوری کے بعد دونوں بلز دوبارہ صدر کو بھیجے جائیں گے۔ صدر نے دس دن تک منظوری نہ دی تو دونوں بلز از خود قانون بن جائیں گے اور نافذ العمل ہوجائیں گے۔