اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کی عدالت نے عدلیہ مخالف اشتہار چھاپنے کے خلاف کیس کی سماعت کی دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اشتہار چھاپنے کا مقصد عدلیہ پر دباؤ ڈالنا تھا اشتہارات پر ججز فیصلہ نہیں کرتے یہ آپ غلط روایت ڈال رہے ہیں عدالت نے استفسار کیا کہ ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا مالک کون ہیاشہتار چھاپنے پر ایڈیٹر اور پبلشر بھی زمہ دار ہوتا ہے جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن اور ایڈیٹر عامر غوری عدالت کے سامنے پیش ہوئے اس موقع پر ایڈیٹر دی نیوز عامر غوری نے بیان حلفی عدالت میں جمع کروا دیا عدالت نے میر شکیل الرحمن کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے اشہتار چھاپنے سے متعلق تمام دستاویزات طلب کر لی دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ دستاویزات جمع کرائیں کہ یہ اشتہار آپ کو کیسے ملا جس پر عامر غوری کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے بیان حلفی کیساتھ وضاحت بھی دی ہے اشہتار چھاپنے پر معافی چھاپ چکے ہیں ہمارا ادارہ خود انکوائری کررہا ہے جس پر عدالت نے کہا کہ اشتہار چھاپ کر آپ نے تو خود ہی ٹرائل کردیا ہے اشتہار چھاپنے کا مقصد عدلیہ پر دباؤ ڈالنا تھا اشتہارات پر فیصلہ نہیں آنا یہ آپ غلط روایت ڈال رہے ہیں عدالت نے استفسار کیا کہ ایڈورٹائزنگ ایجنسی کا مالک کون ا شتہار چھاپنے پر ایڈیٹر اور پبلشر بھی زمہ دار ہوتا یے کسی ایک پر اشتہار کی زمہ داری نہیں ڈالی جاسکتی اشتہار چھاپنے کا طریقہ کار کیا ہے دستاویزات جمع کرائیں عدالت نے آئندہ سماعت پر میر شکیل الرحمن سے متعلقہ دستاویزات کیساتھ بیان حلفی طلب کر لیا جس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جیو نیوز کے مارننگ شو میں بھی یہ مواد چلایا گیا ہے جس پر پی ایف یو جے کے سابق صدر افضل بٹ نے عدالت کو بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے کسی نے اشتہار کے زریعے یہ مواد دیاصحافی خبر دے تو وہ سوچ سمجھ کردیتا ہیامید ہے آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی جس پر عدالت نے کہا کہ ایک جج صاحب جو ٹرائل کررہے ہیں ان پر الزامات عائد کرنا بہت سنجیدہ معاملہ ہیاگر رشوت کا کوئی ثبوت تھا تو متعلقہ فورم پر پیش کیا جاتاشفاف ٹرائل سب کا حق ہے اس موقع پر وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ چوبیس مئی کو ٹی وی پروگرام میں آیا اس پر عدالت نے کہا کہ جس نے بھی کیا بیرسٹر فہد ملک کا قتل تو ہوا ہے عدالت نے کیس کی سماعت 13 جون تک ملتوی کر دی-
Load/Hide Comments



