صدر عارف علوی نے اسٹیٹ لائف کو فوت شدہ پالیسی ہولڈرز کے لواحقین کو 7 لاکھ کے انشورنس کلیمز ادا کرنے کی ہدایت کر دی

اسلام آباد (آن لائن) صدر عارف علوی نے اسٹیٹ لائف کو فوت شدہ پالیسی ہولڈرز کے لواحقین کو 7 لاکھ کے انشورنس کلیمز ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انشورنس کمپنی نے انشورنس پالیسی لیتے وقت بیماری چھپانے کا الزام لگا کر لواحقین کو رقم دینے سے انکار کر دیا تھا۔ صدر مملکت نے اپنے حکمنامے میں کہا لائف انشورنس پالیسی لیتے وقت بیماری کی موجودگی کو ثابت کرنا انشورنس کمپنی کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا انشورنس کمپنی بیماری کی موجودگی کے حوالے سے ناقابل تردید ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ کیس کی تفصیلات کے مطابق متوفی اظہر حسین اور مظہر حسین نے بالترتیب 6 لاکھ اور 1 لاکھ روپے کی لائف انشورنس پالیسیاں حاصل۔ وفات کے بعد انشورنس کمپنی نے بیماریاں خفیہ رکھنے کی بنیاد پر لواحقین کو رقم کی ادائیگی سے انکار کر دیا۔ لواحقین نے انصاف کے حصول کے لیے وفاق محتسب سے رابطہ کیا۔ محتسب نے معقول جواز کے بغیر ادائیگی نہ کرنے پر اسٹیٹ لائف کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ وفاقی محتسب نے معاملہ حل کرنے، بلاتاخیر رقم ادا کرنے، 30 دن کے اندر فیصلے پر عمل کا حکم دیا تھا۔ انشورنس کمپنی نے دونوں فیصلوں کے خلاف صدر مملکت کو اپیل دائر کر دی تھی۔ صدر مملکت نے کہا کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات پالیسی حاصل کرنے کے بعد کی بیماری سے متعلق ہیں، قابل قبول نہیں۔ انہو ں نے کہا دونوں کیسز میں متوفی پالیسی ہولڈرز کو کمپنی کے فیلڈ افسران نے صحت مند قرار دیا تھا۔ انشورنس آرڈیننس 2000 ء کے مطابق انشورنس پالیسی حاصل کرنے کے 2 سال بعد پالیسی پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ انشورنس کمپنی کی درخواست مسترد کی جاتی ہے، ادارہ 30 دنوں کے اندر حکم کی تعمیل کرے۔