وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع عثمان بزدار مستعفی

لاہور( ویب ڈیسک ) وفاق کے بعد اپوزیشن نے پنجاب میں بھی محاذ سنبھال لیا اور صوبائی اسمبلی میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروادی۔پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ اور مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی رانا مشہود ، سمیع اللہ خان ، میاں نصیر اور دیگر اراکین نے وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد اسمبلی میں جمع کرائی۔عدم اعتماد کی تحریک پر ن لیگ اور پی پی پی سمیت 126 ارکان کے دستخط ہیں اور اجلاس بلانے کی ریکوزیشن پر 119 ارکان کے دستخط ہیں۔
اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی کو عدم اعتماد کی تحریک کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا۔ اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ قانونی ضابطے اور اسمبلی قواعد پر مکمل عمل ہوگا، عدم اعتماد کی تحریک پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔عدم اعتماد کی تحریک جمع ہونے کے بعد وزیر اعلی عثمان بزدار پنجاب اسمبلی تحلیل نہیں کرسکیں گے اور 14 دن میں اسپیکر پرویز الٰہی اجلاس بلانے کے پابند ہیں۔
جبکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے پنجاب میں تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا۔وزیرمملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ اپوزیشن نے بہت مٹھائیاں کھالیں اب رونے دھونے کاوقت ہے ہم نے کہا تھا 27 تاریخ کے بعد بڑے سرپرائزدیں گے اپوزیشن والے ملک کی جمہوریت کا مذاق اڑانا چاہتے تھے اپوزیشن والے این آراو چاہتے تھے ارکان کوخرید رہے تھے۔ فرخ حبیب نے کہا کہ ‘وزیراعلی عثمان بزدار نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو پیش کردیا۔
چوہدری پرویز الٰہی کی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ملاقات میں تمام معاملات طے ہوگئے، مسلم لیگ (ق) کا وزیراعظم پر اعتماد کا اظہار اور حمایت کا اعلان کردیا۔
قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چوہدری پرویز الہی کو وزیراعلیٰ کے کینیڈیٹ کے طور پر سپورٹ کریں گے جبکہ ق لیگ نے وزیراعظم کی عدم اعتماد میں حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
شہباز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا تھا اس بڑی سیاسی پیش رفت کا دعوٰی کیا تھا۔خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم عمران خان کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف بھی صوبائی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی تھی۔