اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو مون سون کی بارشوں سے تباہ ہونے والے انفرا اسٹرکچر کی مرمت اور تعمیر نو کے لیے 10 ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہے، دنیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کرے، غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ابتدائی تخمینہ یہی ہے کہ یہ نقصان بہت بڑا ہے جوکہ تقریباً 10 ارب ڈالر سے زیادہ ہے، تقریباً 10 لاکھ گھروں کو نقصان پہنچا ہے لوگ حقیقتاً اپنا مکمل ذریعہ معاش کھو چکے ہیں، وفاقی وزیر نے کہا کہ تعمیر نو اور بحالی میں 5 برس لگ سکتے ہیں جبکہ مستقبل قریب میں قوم کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا جس میں فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا اور مویشی بہہ گئے۔احسن اقبال نے کہا کہ مالی مدد کے لیے کسی بھی باضابطہ درخواست کے لیے اس وقت تک انتظار کرنا پڑے گا جب تک کہ نقصان کا درست تخمینہ معلوم نہ ہو جائے، اس کے لیے پاکستان اب عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ جائزہ لے رہا ہے۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ دنیا پاکستان کی مقروض ہے جوکہ ترقی یافتہ دنیا کی غیر ذمہ دارانہ ترقی کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے، دنیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کرے۔ انہوں نے کہا کہ ’عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ انفرااسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے اور ماحولیاتی تبدیلی کے مطابق اسے مزید لچکدار بنانے میں پاکستان کی مدد کرے تاکہ ہمیں ہر 3، 4، 5 سال بعد اس طرح کا نقصان نہ اٹھانا پڑے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ علاقے جہاں پہلے بارشیں ہوتی تھیں وہاں اب بارشیں نہیں ہو رہیں اور جن علاقوں میں بہت ہلکی بارش ہوتی تھی وہاں اب بہت زیادہ بارشیں ہو رہی ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ ’جنوبی پاکستان میں کپاس کی 45 فیصد فصلیں بہہ گئی ہیں، گندم کی ابتدائی کاشتکاری بھی اس سے متاثر ہوئی کیونکہ زمین کا بڑا حصہ پانی میں ڈوب گیا اور چاول کے کھیتوں کے ساتھ ساتھ سبزیوں اور پھلوں کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔
Load/Hide Comments



