راولپنڈی (آن لائن) مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر و سابق رکن قومی اسمبلی محمد حنیف عباسی نے 200یونٹ بجلی کے استعمال پر فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے خاتمے کے حکومتی اعلان کوعوام کے ساتھ دھوکہ اور سنگین مذاق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عوام کی چیخیں سنیں، انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ 500یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے تمام صارفین کوفیول ایڈجسٹمنٹ چارجز سے مکمل استثنیٰ دیا جائے اگر 500یونٹ تک فیولایڈجسٹمنٹ چارجز سمیت تمام قسم کے ٹیکس ختم نہ کئے گئے شہر بھر کے تاجر سڑکوں پر نکلیں گے اورحکومت یہ جان لے کہ تاجر جب سڑکوں پر نکلتے ہیں تو طوفان برپا کرتے ہیں ملکی معیشت ڈکیتی یا زبردستی سے نہیں چل سکتی ملکی معیشت کی بہتری کے لئے وزیر اعظم نے جس راستے کا تعین کیا ہے وزیر خزانہ بھی اسی راستے کو اپنائیں وزیر اعظم کی جانب سے بنائی گئی کمیٹیوں کے کام شروع کرنے تک عوام کا بھرکس نکل جائے گا۔ وزیر اعظم فوری فیصلہ کریں اور بجلی کے بلوں میں شامل تمام ٹیکسز فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کریں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور عوامی مشکلات کے خاتمے کے لئے دن رات محنت کے ساتھ سیلاب کی قدرتی آفت سے بھی نبرد آزما ہیں وزیر اعظم کی مسلسل محنت سے پاکستان میں 10ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری آجائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنی رہائش گاہ پر انجمن تاجران راولپنڈی کے تینوں دھڑوں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر ارشد اعوان، چوہدری اقبال،قادر میر، شاہد غفور پراچہ، طاہر تاج بھٹی اور شرجیل میر بھی موجود تھے انہوں نے کہا بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے گزشتہ1ہفتے سے تاجروں اور عوام سمیت تمام طبقات کا دباؤ بڑھ رہا ہے موجودہ حالات میں جہاں عوام کے لئے جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو چکا ہے وہیں پردکاندار اپنی دکانیں اور صنعتکار اپنی صنعتیں صنعتیں بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور عوامی مشکلات کے خاتمے کے لئے دن رات محنت کر نے کے ساتھ سیلاب کی قدرتی آفت سے بھی نبرد آزما ہیں یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم کی مسلسل محنت سے یو اے ای، سعودی عرب،اور چین پاکستان میں 10ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر رضامند ہو گئے ہیں اور یہ سرمایہ کاری 10ستمبر سے پہلے یقینی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وفاقی وزارت خزانہ وزیر اعظم کی ساری محنت پر پانی پھیرنے کے درپے ہے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وزارت خزانہ لوٹ مار کا بازار بند کرے پہلے سے ٹیکس دہندگان کا گلہ دبانے کی بجائے نئے ٹیکس دہندہ تلاش کرے انہوں نے کہا کہ جس چھوٹی یا درمیانے درجے کی انڈسٹری کا ماہانہ بل پہلے 3لاکھ کے قریب تھا اب اس کا بل 7لاکھ اور جس کا ڈیڑھ کروڑ تھا اب اس کا بل 4کروڑ کے قریب پہنچ چکا ہے اسی طرح 100یونٹ صرف کرنے والے جس گھریلو صارف کا بل 3500اور200یونٹ والے کا بل5ہزارتھاانہیں 15سے16ہزار کے بل بھجوا دیئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ صارفین سے بجلی کی اصل قیمت وصول کرنے کی بجائے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز، انکم ٹیکس، ٹی آر چارجز، ایف سی چارجز اورجنرل سیلز ٹیکس سمیت11مختلف قسم کے ٹیکسز عائد کر دیئے گئے ہیں انہوں نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کی چیخ و پکار سنیں وزیر اعظم کی جانب سے بنائی گئی کمیٹیوں کے کام شروع کرنے تک عوام کا بھرکس نکل جائے گا لہٰذا وزیر اعظم فوری فیصلہ کریں اور بجلی کے بلوں میں شامل تمام ٹیکسز فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کریں انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت ڈکیتی یا زبردستی سے نہیں چل سکتی ملکی معیشت کی بہتری کے لئے وزیر اعظم نے جس راستے کا تعین کیا ہے وہ ایک بہترین راستہ ہے اور وزیر خزانہ بھی اسی راستے کو اپنائیں اگر عوام کو ڈرانا اور مارنا ہی مقصود تھا تو ہم سے پہلے والے یہ کام بہتر کر رہے تھے .
Load/Hide Comments



