قانون سازی صوبائی حکومت کا اختیار ہے،چیف جسٹس آف پاکستان

اسلام آباد(آن لائن) سندھ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کیلئے حلقہ بندیوں کیخلاف کیس میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے قانون سازی صوبائی حکومت کا اختیار ہے،صوبائی قانون پر عملدرآمد کے دوران کچھ سقم نظر آ رہے ہیں،کیا الیکشن کمیشن سقم نظرانداز کرکے اپنی مرضی سے حلقہ بندی کرسکتا ہے؟بعض یونین کمیٹیوں کی آبادی میں فرق سو فیصد سے بھی زیادہ ہے،عدالت صرف سقم کی نشاندہی کر سکتی ہے قانون تبدیل نہیں کر سکتی،الیکشن کمیشن اتنا ہی کام کر سکتا ہے جتنا اسے اختیار ہو،کے پی کے کے قانون میں یونین کمیٹیوں کی تعداد کیلئے طریقہ کار درج ہے۔عدالت عظمٰی میں معاملہ کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت ایم کیو ایم کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت نے کمیٹیوں کی تعداد کا کوئی طریقہ کار واضح نہیں کیا، اورنگی ٹاون کی سات لاکھ آبادی پر مئیر کے لیے 7 جبکہ مومن آباد کی 4 لاکھ آبادی پر 9 ووٹ مختص ہیں،سندھ حکومت کی اس سے بڑی دھاندلی اور کیا ہو گی،میرے دلائل جسٹس منصور علی شاہ کے ایک فیصلے پر منحصر ہیں۔ کراچی سے بلا مقابلہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کے وکیل خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت نے قانون میں بلدیاتی اداروں کا ڈھانچہ بنایا ہے،کیا الیکشن کمیشن حلقہ بندی کے ذریعے ڈھانچہ تبدیل کر سکتا ہے؟حلقہ بندیاں ریاضی کے اصول کے تحت نہیں کی جاسکتیں،ایم کیو ایم کی دلیل مان لی جائے تو پورے ملک کی صوبائی و قومی اسمبلی کی حلقہ بندیاں متاثر ہو جائیں گی،اسی اصول کے تحت 2015 میں سندھ حکومت کی حد بندی پر حلقہ بندیاں ہوئیں ایم کیو ایم کے میئر بنے،یہ کیس صرف مومن آباد یا کراچی کا نہیں،اس کیس سے پورے ملک کی حلقہ بندیاں متاثر ہو سکتیں ہیں،کراچی میں 110 گز کے گھر میں آٹھ لوگ اور ہزار گز کے گھر میں تین لوگ بھی رہتے ہیں،الیکشن کمیشن یونین کمیٹی بناتے وقت صرف آبادی نہیں حلقے میں بنیادی سہولیات کو بھی مد نظر رکھتا ہے،پاکستان میں آبادی کے تناسب سے سب نہیں ہوتا،رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کی آبادی سب سے کم ہے،کراچی کو سب سے زیادہ بلدیاتی حکومت کی ضرورت ہے،کراچی سے آیا ہوں،قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے