لاہور (آن لائن) پنجاب اسمبلی کااجلاس سپیکر محمد سبطین خان کی زیرِ صدارت شروع ہوا۔رکن اسمبلی میاں شفیع محمد نے سپیکر کی اجازت کے بعد ایوان میں دی پروونشل اسمبلی آف دی پنجاب پریولیجز بل 2022 پیش کیاجسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ اس موقع پر محمد بشارت راجہ نے کہا کہ اس بل کو اسمبلی نے پہلے بھی متفقہ طورپر پاس کیا ہے۔ مگر گورنر پنجاب نے اس بل کو منظور نہیں ہونے دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ گورنر صاحب اسمبلی فیصلوں کی توثیق کر دیا کریں اور رکاوٹ نہ بنیں۔ بعد ازاں پاکستان مسلم لیگ کی خاتون رکن اسمبلی خدیجہ عمرنے ایوان میں ” دی پنجاب Prohibition آف انٹرسٹ آن پرائیویٹ لونز بل 2022ء” پیش کیا جسے ایوان نے متفقہ طورپر منظور کر لیاگیا۔ اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سود کا کاروبار ایک لعنت ہے جس سے قرآن مجید اور خاتم النبین ﷺنے منع فرمایاہے۔ ہم نے سود کے خلاف قانون سازی کی ہے۔میں آج ہاؤس، حکومت پنجاب اور عمران خان کو دل کی گہرائیوں سے خراج عقیدت پیش کرتا ہوں ان کے دور میں یہ دین کا کام ہوا۔ دینی تعلیم پر سکولوں میں ایسا نظام دیا جس سے بھارت،کشمیر فلسطین و شام مسلمانوں کے ساتھ زیادتیوں پر بات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پہلی سے بی اے تک تعلیم مفت کر دی ہے، کتابیں بھی فری کر دی ہیں۔ سرکاری سکول ہوں یا یونیورسٹیاں اس میں دینی تعلیمات پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ حکومت تمام شہروں کے سکولوں میں قرآن مجید کے نسخے مفت دیں گے۔انہوں نے کہا کہ دینی تعلیم دینے کا کریڈٹ بھی عمران خان کو جاتاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تمام سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں مفت ادویات دے رہے ہیں۔ جو ڈاکٹرز ایمرجنسی میں کام کرے گا اس کی تین گنا تنخواہ کریں گے۔وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ہم نے نابینا افراد کیلئے سکول بنائے جبکہ شہباز شریف نابینا افراد کو لاٹھیاں مارتے رہے۔ ہم نے ان کے الاؤنس کو بڑھا کر دس ہزار کردیاہے۔ہم پنجاب میں سو ارب روپے کیش چھوڑ کر گئے شہبازشریف صوبہ کو ایک ہزار ارب روپے مقروض کرکے گیا۔
Load/Hide Comments



