اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان نے جھوٹے دستاویزات جمع کرائے، اب اس معاملے کو تکنیکی رنگ دیا جا رہا ہے، یہ ٹیکنکل معاملہ نہیں فارن فنڈنگ کا سیدھا سیدھا معاملہ ہے، ملک میں سیلابی صورتحال ہے وزیراعظم خود سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ جس جگہ امداد کی فوری ضرورت ہے وہاں پہنچائی جائے اور اس حوالے سے اختیار کو بعد میں دیکھا جائے کہ کس کا اختیار تھا،وزیراعظم نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی کہ پانچ ارب روپے فوری طور پر این ڈی ایم اے کو جاری کئے جائیں ملک میں سیلاب کی صورتحال سے قوم کو آگاہ رکھنے پر الیکٹرانک، پرنٹ میڈیا کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں میڈیا نے ریلیف کی سرگرمیوں اور سیلاب کی صورتحال سے عوام کو آگاہ کیا اور ہمیں بھی میڈیا سے رہنمائی ملی ہم این ڈی ایم اے اور پی ایم ڈی ایز کی رپورٹس کا میڈیا کی رپورٹس سے موازنہ کرتے رہے ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا انھوں نے یہ بھی کہا کہ پرائم منسٹر ریلیف فنڈ میں مخیر حضرات سمیت ہم سب کو اپنا حصہ ڈالنا چاہئے ماضی میں بھی ہم نے آفت زدہ علاقوں میں اپنے لوگوں کی مدد کی وزیراعظم نے سیلاب زدہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی، آج صوبوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے صوبوں میں سیلاب زدہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیں تاکہ ریلیف کی سرگرمیاں زیادہ متحرک ہو سکیں انھوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم نے ایک مشترکہ سرویز کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ بحالی کا کام فوری طور پر شروع ہو جائیہیلی کاپٹر حادثہ میں افواج پاکستان کے سینئر افسران شہید ہوئے، یہ افسران سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے ایک جماعت نے ان فوجی افسران کی شہادتوں پر ٹرولنگ کی جس کی شدید مذمت کرتے ہیں، یہ شرمناک اور افسوسناک رویہ ہے بشریٰ بی بی اپنے بیٹے ارسلان کو ہدایت کرتی ہیں کہ مخالفین کو غدداری کے ساتھ لنک کرو افواج پاکستان کے شہداء کے خلاف جس طرح کا رویہ اپنایا گیا اس پر ہمارے سر شرم سے جھک گئے ہیں ں افواج پاکستان کے یہ شہداء لوگوں کی مدد کر رہے تھے، انہیں سلام پیش کرتی ہوں اس قسم کی نفرت، اشتعال انگیزی، جھوٹ پر مبنی رویہ افسوسناک ہے فارن ایجنٹ ”عمران خان” کی پارٹی کو الیکشن کمیشن نے پولیٹیکل پارٹی آرڈر 2002ء اور الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت فارن ایڈڈ پولیٹیکل پارٹی ڈیکلیئر کیا ہے عمران خان قوم کو مزید گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں 14 دسمبر 2014 میں یہ پٹیشن اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں دائر کی تھی 15 جنوری 2015ء کو اس پر سماعت شروع ہوئی آٹھ سال تک اس کیس میں تحقیقات ہوئیں تحریک انصاف نے 51 مرتبہ التواء مانگا، 9 مرتبہ وکیل بدلے، 11 مرتبہ ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا اور کہا کہ یہ ان کا دائرہ اختیار نہیں ہے اسٹیٹ بینک نے جو ریکارڈ الیکشن کمیشن میں جمع کروایا اس کے خلاف بھی اپیل کی کہ یہ پبلک نہ کیا جائے 8 سال کسی پارٹی کی فنڈنگ کی تحقیقات ہوتی رہیں، اس سے پہلے کسی پارٹی کے بارے میں فیصلہ میں اتنا وقت نہیں لگا پہلی مرتبہ کسی سیاسی پارٹی کو فارن ایڈڈ پارٹی ڈیکلیئر کیا گیا پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے الیکشن کمیشن میں پانچ مرتبہ جعلی بیان حلفی جمع کروائے عمران خان نے کہا کہ یہ بیان حلفی میرے اکاؤنٹنٹ جمع کرواتے تھے، میں ان پر صرف دستخط کرتا تھا انھوں نے یہ بھی کہا کہ میرے سمیت بہت سے لوگوں کا ڈیٹا ایف بی آر اور الیکشن کمیشن میں جمع ہوتا ہے، سب اپنی اسٹیٹمنٹس پر خود دستخط کرتے ہیں عمران خان نے الیکشن کمیشن میں جھوٹے بیان حلفی جمع کروائے تمام فارن فنڈنگ عمران خان جانتے بوجھتے وصول کی عمران خان پریس کانفرنسیں کر کے دوسروں کی عزت اچھالتے ہیں اور جب ان کے بارے میں بات آئے تو وہ اسے ٹیکنیکل معاملہ قرار دیتے ہیں پانچ بیان حلفی عمران خان نے جمع کروائے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ مجھے معلوم ہی نہیں کہ یہ بیان حلفی کیا ہے، پھر کہا کہ یہ ٹیکنیکل معاملہ ہے یہ فارن فنڈنگ کا معاملہ ہے پولیٹیکل پارٹی آرڈر 2002ء کے تحت پاکستان میں رجسٹرڈ کوئی سیاسی جماعت کسی بھی کمپنی یا ملک سے باہر کسی کمپنی سے پیسہ نہیں لے سکتی.
Load/Hide Comments



