اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ گزشتہ حکومت میں توانائی کے حوالے سے منصوبہ بندی کے فقدان نے اس شعبے کوبری متاثر کیا جس کے نتیجے میں توانائی بحران پیدا ہوا انہوں نے کہاکہ مستقبل میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو بہتربنانے کے لیے توانائی کے انتظام کے منصوبوں کے انضمام کی اشد ضرورت ہے.ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے انرجی کے حوالے سے منعقد پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا. ورکشاپ کا انعقاد پاکستان پلاننگ مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (پی پی ایم آئی) نے کیا تھا. تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ توانائی کا ہر ترقیاتی شعبے کی پرورش میں کلیدی عنصر ہے, اور وڑن 2025 نے مربوط توانائی، پانی اور خوراک کی حفاظت کی ضرورت کو بھی تسلیم کیا گیا تھا, کیونکہ یہ سب آپس میں جڑے ہوئے ہیں. انکا مزید کہنا تھا کہ انٹیگریٹڈ انرجی ماڈل مستقبل میں ملک کو fossil ایندھن سے دوسرے متبادل ایندھن کے وسائل کی طرف منتقلی پر عمل کرنے میں مدد کرے گا. وفاقی وزیر نے توانائی کی ضروریات کے لیے fossil ایندھن پر بہت زیادہ انحصار کرنے کے بجائے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی اہمیت کو اجاگر کرنے پہ زور دیا, اور انکا کہنا تھا کہ CoVID-19 کے بعد کے بحران نے دنیا کو خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو متاثر کیا اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے اور اسے مضمرات کو برداشت کرنا ہوگا. انہوں نے مزید کہا کہ نئے آئیڈیاز اور جدید ٹیکنالوجی کے علم کا استعمال ہر شعبے خصوصاً توانائی کے شعبے کو عالمی منڈی میں جگہ حاصل کرنے میں مدد کرتا ہے.
Load/Hide Comments



