سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ کی تفصیلات سامنے آ گئیں

سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ کی تفصیلات سامنے آ گئیں، قائم مقام سیکریٹری کیپٹن ریٹائرڈ محمود کی سفارشات بھی رپورٹ میں شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں پمز سانحہ پر متعدد سینئر افسران کو غفلت اور کوتاہی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، کمیٹی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور متعلقہ عملے سمیت 10 افسران کو عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔

کمیٹی رپورٹ میں 5 اہم ترین اعلیٰ افسران کو بھی عہدوں سے فارغ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں ای ڈی پمز رانا عمران سکندر، ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عنیزہ جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال درانی، ڈپٹی ڈائریکٹر حسن نواز، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر چلڈرن ڈاکٹر مطاہر شاہ کو برطرف کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سینئر افسران نے سنگین غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا، پمز اسپتال غیر پیشہ ورانہ انداز میں اور مناسب انتظامی ڈھانچے کے بغیر چلایا جا رہا تھا۔

رپورٹ میں ہٹائے جانے والے افسران کی جگہ نئے، اہل افراد کی تعیناتی اور اسپتال کے لیے مستقل گورننگ بورڈ قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپتال کی باقاعدہ نگرانی اور مؤثر انتظام کے لیے گورننگ بورڈ ناگزیر ہے۔

26 اگست کو پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں جھلس کر 14 نومولود جاں بحق ہوگئے تھے، جن کے والدین غم سے نڈھال ہیں، والدین نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے سانحہ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ سے متعلق اجلاس لاہور میں طلب کر لیا، ذرائع کے مطابق وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور دیگر متعلقہ افسران شرکت کریں گے۔

اجلاس میں واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ پر بریفنگ دی جائے گی، وزیر اعظم انکوائری رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں اہم ہدایات دیں گے۔

اس سے قبل سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی گئی، رپورٹ میں ذمہ داروں اور متعلقہ غیر حاضر عملے کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی۔

ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے سانحہ پمز کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کر لیا ہے، پمز انتظامیہ، ڈاکٹروں، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کے بیانات بھی رپورٹ میں شامل ہیں۔

رپورٹ میں پمز اسپتال میں علاج معالجے کی ناکافی سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اسپتال میں کوئی بھی چیز عالمی معیار کے مطابق نہیں، رپورٹ پبلک کرنے کا اختیار وزیراعظم کو دیا گیا ہے۔