کراچی(آن لائن)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کی زیر صدارت اداہ نورحق میں کراچی کے ذمہ داران کا اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں عام انتخابات کے بعد پیدا شد ہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا بالخصوص کراچی میں بدترین دھاندلی،جماعت اسلامی کی جیتی ہوئی سیٹوں کے نتائج تبدیل کرکے مینڈیٹ پر ڈاکے اور الیکشن کمیشن و متعلقہ اداروں کی نااہلی و ناکامی کی شدید مذمت کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ہم کسی بھی صورت میں اپنے عوامی مینڈیٹ سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ مینڈیٹ کے تحفظ اور جیتی ہوئی سیٹوں کے حصول کے لیے آئینی وقانونی اور سیاسی و جمہوری جدوجہد کی جائے گی اس کے لیے عدالتوں میں بھی جائیں گے اور سڑکوں پر احتجاج بھی کریں گے۔اجلاس میں جماعت اسلامی کو بلدیاتی انتخابات سے زیادہ ووٹ دینے پر اہل کراچی کا شکریہ ادا کیا گیا اور مردو خواتین کارکنوں اور پولنگ ایجنٹوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا تھا جنہوں نے 8فروری کو رات گئے تک فارم 45کے حصول کے لیے جدوجہد اور مزاحمت کی۔حافظ نعیم الرحمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کراچی کے عوام نے جماعت اسلامی پر بلدیاتی انتخابات سے بڑھ کر اعتماد کا اظہار کیا، ہم عوام کے شکر گزار ہیں اور ہم کسی بھی صورت میں عوامی مینڈیٹ سے دستبردار نہیں ہوں گے، ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی کے انتخابی نتائج کو کالعدم قراردیا جائے، سپریم کورٹ کی سطح پر عدالتی کمیٹی تشکیل دے کر نتائج کی فارنزک تحقیقات اور فارم 45کے اعدادو شمار کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلی کی تمام نشستوں کا اعلان کیا جائے۔ہم ایک ووٹ بھی زیادہ نہیں مانگتے،جو جیتا ہے اسے جیتنے دیا جائے۔جماعت اسلامی کی جیتی ہوئی نشستوں پر قبضے اور ریکارڈ دھاندلی اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت کو بے نقاب کریں گے اور جدوجہد جاری رکھیں گے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کو دھاندلی زدہ انتخابات کے حقائق پر خط ارسال کر چکے ہیں ان سے بھی اپیل ہے کہ اس کا نوٹس لیں کیونکہ الیکشن کمیشن ایک کھلونا بناہوا ہے اور الیکشن کو تماشہ بنا دیا گیا ہے از خود مرتب کیے گئے نتائج کااعلان کرنا عوامی رائے پر شب خون مار نا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم ملک میں آئین و قانون اور جمہوریت کی بالا دستی چاہتے ہیں اور اسی فریم ورک کے تحت آئینی و قانونی اور سیاسی جدو جہد اور مزاحمت کریں گے۔ اپنی سیٹوں اور مینڈیٹ پر قبضے پر خاموش نہیں رہیں گے،بلدیاتی انتخابات پر قبضے اور میئر کے جعلی انتخاب سے لے کر عام انتخابات تک جمہوریت دشمنی اور کراچی کے عوام کے مینڈیٹ پر قبضے کا عمل جاری ہے جن لوگوں نے کسی بھی نشست پر چند ہزار ووٹ بھی نہیں لیے ان کو شہر پر مسلط کرنے کی کوشش اہل کراچی کے ساتھ سراسر زیادتی ہے.
Load/Hide Comments



