مسلمان صادق اور امین کے الفاظ نبی کریمؐکے سوا کسی کیلئے استعمال کرہی نہیں سکتا، چیف جسٹس

اسلام آبا د(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ایک مسلمان صادق اورامین کے لفظ آخری نبی کریم ؐکے سوا کسی کے لیے استعمال کر ہی نہیں سکتا،الیکشن لڑنے کے لئے جو اہلیت بیان کی گئی ہے اگر اس زمانے میں قائد اعظم ہوتے وہ بھی نااہل ہو جاتے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ معمولی وجوہات کی بنیاد پر تاحیات نااہلی غیر مناسب نہیں لگتی؟ قتل اور غداری جیسے سنگین جرم میں کچھ عرصے بعد الیکشن لڑ سکتے ہیں، کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کو ختم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی؟عدالت نے مزید سماعت 4 جنوری تک ملتوی کر دی۔منگل کے روز چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 7 رکنی لارجر بینچ نااہلی کی مدت سے متعلق کیس کی براہ راست نشر کی گئی۔جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی بنچ کا حصہ تھے،سماعت کے آغاز پر درخواست گزار امام بخش قیصرانی کے وکیل ثاقب جیلانی اور اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی سزا پانچ سال کرنے کی قانون سازی کو سپورٹ کر رہے ہیں، نواز شریف تاحیات نااہلی فیصلے پر نظر ثانی ہونی چاہیے۔اس دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟ جس پر درخواست گزار ثنا اللہ بلوچ، ایڈووکیٹ خرم رضا اور عثمان کریم نے تاحیات نااہلی کی حمایت کی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت کی حمایت کرتا ہوں اور عدالت سمیع اللہ بلوچ کے مقدمے پر نظر ثانی کرے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی سزا پانچ سال کرنے کی قانون سازی کو سپورٹ کر رہے ہیں، نواز شریف تاحیات نااہلی فیصلے پر نظر ثانی ہونی چاہیے۔میر بادشاہ قیصرانی کے خلاف درخواست گزار کے وکیل ثاقب جیلانی نے بھی تاحیات نااہلی کی مخالفت کر دی۔وکیل ثاقب جیلانی نے کہا کہ میں نے میر بادشاہ قیصرانی کے خلاف 2018 میں درخواست دائر کی جب 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا فیصلہ آیا، اب الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل ہو چکا اس لیے تاحیات نااہلی کی حد تک استدعا کی پیروی نہیں کر رہا۔اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کی تشریح کے فیصلے کے دوبارہ جائزے کی استدعا کی، چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل، آپ کا مؤقف کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ چلنا چاہیے یا سپریم کورٹ کے فیصلے پر؟اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عدالت سے درخواست ہے کہ تاحیات نااہلی کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے، الیکشن ایکٹ کی تائید کروں گا کیونکہ یہ وفاق کا بنایا گیا قانون ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے پر ایڈوکیٹ جنرلز کا موقف بھی لے لیتے ہیں، آپ اٹارنی جنرل کے موقف کی حمایت کرینگے یا مخالفت؟ایڈوکیٹ جنرلز نے بھی اٹارنی جنرل کی مؤقف کی تائید کی، صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز نے الیکشن ایکٹ میں ترامیم کی حمایت کی، اٹارنی جنرل نے آئین کاارٹیکل 62،63 پڑھ کر سنایا۔اٹارنی جنرل نے رکن پارلیمنٹ بننے کے لیے اہلیت اور نااہلی کی تمام آئینی شرائط پڑھ کر سنائیں، انہوں نے کہا کہ کاغذات نامزدگی کے وقت سے 6262 اور تریسٹھ دونوں شرائط دیکھی جاتی ہیں، انٹری پوائنٹ پر دونوں ارٹیکل لاگو ہوتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ شقیں تو حقائق سے متعلق ہیں وہ آسان ہیں، کچھ شقیں مشکل ہیں جیسے اچھے کردار والی شق، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم کہہ سکتے ہیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اچھے کردار کے ہیں؟ جس پر عدالت میں قہقے لگے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کا اچھا علم رکھنا بھی ایک شق ہے، پتا نہیں کتنے لوگ یہ ٹیسٹ پاس کرسکیں گے۔نااہلی کی مدت کا تعین آئین میں نہیں، اس خلا کو عدالتوں نے پر کیا۔جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت آئین سے زیادہ اہم تصور ہو گی؟ آرٹیکل 63 کی تشریح کا معاملہ ہے،سنگین غداری کرتے تو الیکشن لڑ سکتا ہے جب کہ سول کورٹ میں معمولی جرائم میں سزا یافتہ الیکشن نہیں لڑ سکتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کی یہ ترمیم چیلنج نہیں ہوئی، جب ایک ترمیم موجود ہے تو ہم پرانے فیصلے کو چھیڑے بغیر اس کو مان لیتے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ تاثر ایسا آ سکتا ہے کہ ایک قانون سے سپریم کورٹ فیصلے کو اوور رائٹ کیا گیا، چیف جسٹس نے کہا کہ تو کیا اب ہم سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو دوبارہ دیکھ سکتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سمیع اللہ بلوچ کیس میں عدالت نے ایک نقطے کو نظر انداز کیا، عدالت نے کہا کرمنل کیس میں بندا سزا کے بعد جیل بھی جاتا ہے،اس لیے نااہلی کم ہے، عدالت نے یہ نہیں دیکھا ڈیکلیریشن باسٹھ ون ایف اور کرمنل کیس دونوں میں ان فیلڈ رہتا ہے.